بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پارلیمنٹ کو تگڑا ہونا چاہیے یہ میونسپل کارپوریشن نہیں،طلال چوہدری

اسلام آباد(ممتازنیوز) پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماء طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کو تگڑا ہونا چاہیے یہ میونسپل کارپوریشن نہیں،اداروں کو پارلیمنٹ جنم دیتی ہے،عمران خان کہتا ہے جو لوگ ہنگامے میں ہلاک ہوئے وہ ان کی جماعت کے تھے جبکہ ہنگامہ کرنے والے اور آگ لگانے والے ایجنسی کے لوگ تھے،ہنگاموں کا فیصلہ عمران خان کے ساتھ میٹنگ میں کیا گیا، عوام کو مزید بےوقوف نہیں بنایا جا سکتا، فیصلہ کیا گیا ہے کہ معاملہ آرمی کورٹ جائے گا،اگر جی ایچ کیو پر حملہ کا کیس آرمی کورٹ میں نہیں چلے گا تو کدھر چلے گا؟ان حالات میں الیکشن ہونگے تو ان سے کون بچے گا۔یہ کہتے تھے غلامی سے آزادی لیں گے۔آرمی چیف کی تعیناتی پر لانے مارچ کیا گیا ۔پہلی بار دیکھا صدر مملکت جماعت کے پاس دستخط کرنے کی اجازت لینے گیا،ملک کے دو لخت ہونے اور آمروں کو جلا بخشنے میں بھی خاص فیصلےتھے، کل کا دھرنا ختم نہیں ہوا موخر کیا گیا ہے،اگر پھر کسی عدالت نے وزیراعظم کو گھر بھیجا تو عوام کی عدالت فیصلہ کرے گی،جتنی جلدی ضمانتیں دینی کی ہے کاش اتنی جلدی مقدمے ختم ہوجاتے، پارلیمنٹ چیف جسٹس اور چند ججز پر عدم اعتماد کر چکی ،عمران خان میں تمام شرعی اور دنیاوی عیب ہیں ،توشہ خانہ میں عمران خان نے 9 وکیل بدلے۔گھڑیاں ہیرے ساٹھ ارب ڈاکر کرگھروں کو آگ لگائی گئ۔قائد اعظم کا گھر محفوظ نہیں توکسی اور کا کیسے محفوظ رہے گا ۔عدالت کا کام یہ نہیں کے وہ پارلمینٹ کے قانون پر حکم امتناعی جاری کرے ۔نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے لیگی راہنماء طلال چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ کل کے احتجاج کی نوبت کیوں آئی ؟جن اداروں کے لیے لوگ جان دیتے رہے ان کے سامنے کل احتجاج کیوں کر رہے تھے ؟ملزم کو مہمان بنائیں گے تو لوگ احتجاج کرینگے ۔ادب سے بات کرنا اچھی چیز ہے لیکن ڈاکو کے ساتھ ادب سے پیش نہیں آیا جاتا۔ادب بے گناہ کے لیے اور معصوم کے لیے ہے۔عمران خان بیانیہ بنانا چاہتا ہے کہ جو ہورہا ہے ایجنسیاں کرا رہی ہیں ،ملک کے دو لخت ہونے اور آمروں کو جلا بخشنے میں بھی خاص فیصلے تھے۔2017 سے کھیل شروع ہوا،عمران خان میں تمام شرعی اور دنیاوی عیب ہیں ۔اشتہاری عمران خان منتخب وزیراعظم کے خلاف درخواست لے کر گیا۔ملک میں ماحول بنا اور سہولت کاری سے لاڈلے کو وزیراعظم بنایا گیا۔ہر رٹ کو تکنیکی بنیاد پر خارج کیا گیا۔اب دو دن میں ضمانت ملتی ہے،اب ہارڈ شپ بن جاتی ہے۔اب پھر الیکشن کو مینج کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ایک وزیراعظم اور پارلیمنٹ کو نیچا دکھایا جا رہا ہے ۔جب عمران خان عدالت پیش ہوا تو کور کمانڈر ہاؤس میں آگ بجھی نہیں تھی۔48 گھنٹے سے کم میں لوگ کل اسلام آباد پہنچے۔کل کسی درخت کی کوئی ٹہنی ٹوٹی؟دوسری جانب آگ لگائے بغیر کچھ نہیں ہوتا آگ لگانے والےپی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر تھے لیکن الزام ایجنسی پر لگایا جا رہا ہے ۔یہ لوگ فخر سے کہتے تھے کہ ہم آگ لگانے جا رہے ہیں ۔جب میر جعفر میر صادق کہیں گے تو لوگ ایسا ہی کریں گے ۔ان ہنگاموں کا فیصلہ عمران خان کے ساتھ میٹنگ میں کیا گیا۔کیا شہر میں صرف جی ایچ کیو اور کور کمانڈر ہاؤس تھا؟فیصلہ کیا گیا ہے کہ معاملہ آرمی کورٹ جائے گا۔اگر جی ایچ کیو پر حملہ کا کیس آرمی کورٹ میں نہیں چلے گا تو کدھر چلے گا؟ان حالات میں الیکشن ہونگے تو ان سے کون بچے گا۔یہ کہتے تھے غلامی سے آزادی لیں گے۔آرمی چیف کی تعیناتی پر لانے مارچ کیا گیا ۔پہلی بار دیکھا صدر مملکت جماعت کے پاس دستخط کرنے کی اجازت لینے گیا ۔پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر کا سوشل میڈیا کھول لیں۔کیا عمران خان ایجنسیوں کے کہنے پر میر صادق کہتے تھے؟عمران خان نے کہا کہ گرفتار کیا تو دوںگا تودوبارہ یہی ہوگا۔پاکستان کو ایسے الیکشن میں نہ دھکیلا جائے جسے کوئی بھی نہ مانے،پاکستان کی ضرورت کے لیے الیکشن ہونا چاہیے کی کی خواہش پر نہیں،پی ٹی آئی کی فارن فنڈنگ کی کہانی بہت لمبی ہے۔ٹیریان وائٹ والا مقدمہ تکنیکی بنیاد پر خارج نہ کریں ۔یہ بتا دیں آیا بیٹی اس کی ہےیا نہیں ۔گارنٹی دے دیں کہ ان بلوائیوں سے بیلٹ بکس سے کیسے بچائے گا ۔جتنی جلدی ضمانتیں دینی کی ہے کاش اتنی جلدی مقدمے ختم ہوجاتے۔توشہ خانہ میں عمران خان نے 9 وکیل بدلے۔گھڑیاں ہیرے ساٹھ ارب کی خاطر گھروں کو آگ لگائی گئ۔قائد اعظم کا گھر محفوظ نہیں کسی اور کا کیسے محفوظ رہے گا ۔عدالت کا کام یہ نہیں کے وہ پارلمینٹ کے قانون پر حکم امتناعی جاری کرے۔ اگر قانون پر عمل نہیں کرا سکتے توپارلیمنٹ بند کر دیں ۔گزشتہ روز ہونے والا احتجاج وقت کے ساتھ بدلے گا،نواز شریف نے گجرانوالہ تقریر میں دو افراد کا نام کیا۔لیکن ادارے کے جوانوں کی تعریف بھی کی ۔دیسی نیلسن منڈیلا بننے کے شوقین کے ہتھکڑی لگتی نہیں آنسو پہلے باہر آجاتے ہیں ۔لوگوں نے ظلم برداشت کیا ہے لیکن قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا ۔انتخابات وقت پر ہونے چاہیے اور اداروں کو قانون میں گنجائش بھی دی ہے ۔الیکشن وقت پر ہونے کے ساتھ صاف ستھرے ہونے چاہیے۔الیکشن کمیشن اتنا آزاد ہے کہ اس کو تاریخ دی جاتی ہے ۔پی ٹی آئی کے کس احتجاج میں جلاؤ گھیراؤ نہیں ہوا؟پی ٹی آئی کا بنایا صدر تعیناتی کی سمری عمران کے پاس کر گئے،پورا توشہ خانہ کھا گئے لیکن انصاف میں اتنا دم نہیں کہ سزا دیتے ۔پارلیمان پر حملہ کے دن سزا نہ دیتے تو یہ وقت نہ دیکھتے۔ پارلیمنٹ چیف جسٹس اور چند ججز پر عدم اعتماد کر چکی یے۔ایک سو چوراسی تین اور سو موٹو کے کھیل کا کتنی بار بتائیں ۔اس سے پہلے ملک میں روٹی اور ڈالر سستی تھی۔اس سب کو یہاں لانے کا مجرم ثاقب نثار ہے۔پارلیمنٹ کو تگڑا ہونا چاہیے یہ میونسپل کارپوریشن نہیں۔اداروں کو پارلیمنٹ جنم دیتی ہے ۔