دنیا بھر کے نامور دانشوروں نے بھارتی پراپیگنڈے اور ہٹ دھرمی کی شدید مذمت کی ہے، معروف دانشور نوم چامسکی بھی بھارتی اقدامات کے خلاف بول پڑے۔
بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں جی-20 اجلاس منعقد کرکے اپنی دانست میں بڑا کارنامہ سمجھا تھا لیکن دنیا بھر میں اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

عالمی شہرت یافتہ دانشور پروفیسر نوم چامسکی نے بھی ایک مقبوضہ علاقے میں جی-20 اجلاس منعقد کرنے کو عالمی قوانین اور بنیادی حقوق سے متصادم قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے 1947 کے بعد مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑے فوجی کیمپ میں تبدیل کردیا ہے۔
https://twitter.com/jawaad_nasir/status/1661333359103209474?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1661333359103209474%7Ctwgr%5E110ba7f0d50c26fd314720e88626e6b9d6428165%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Fwww.express.pk%2Fstory%2F2488932%2F10
نوم چامسکی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کی مودی سرکار کے سیاہ اقدام کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے 2019 میں اپنے غیر قانونی اقدام سے عالمی قوانین کی دھجیاں اڑادیں۔
معروف دانشور نوم چوسکی نے اپنے ویڈیو پیغام میں مزید کہا کہ بھارتی افوج مظلوم کشمیریوں پر بدترین مظالم اور بنیادی حقوق کی مسلسل پامالی کر رہی ہیں۔
بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں جی-20 اجلاس کے بھونڈے اقدام کی کئی ممالک پہلے سے ہی مذمت کرچکے ہیں جب کہ 4 رکن ممالک نے بائیکاٹ کیا اور جن ممالک نے شرکت کی انھوں نے بھی نیہ دہلی میں مقیم سفارت کاروں کو بھیجنے پر اکتفا کیا۔








