نسل اِنسانی کی تاریخ جان خزانہ ہو سکتا ہے اور ممکن ہے کہ اس غار کی دیواروں پر بنے نقش و نگا سے یہ جاننے میں بھی مدد ملی ہو کہ انسان کب سے اس دُنیا میں تشریف فرما ہیں۔ نے کے خواہشمند افراد کیلئے فرانس میں موجود ایک غار میں معلومات کاجنوب مغربی فرانس میں واقع ’’لاسو‘‘ کے غاروں (Lascaux Caves) میں رنگین پینٹنگز پتھر کے دور میں تخلیق کی گئی تھیں اور تقریباً 20 ہزار سال قدیم یہ تصویریں آج بھی بہت واضح اور نمایاں دیکھی جا سکتی ہیں۔

غار کی دیواروں پر بنائی جانے والی یہ پینٹنگز جانوروں کی ہیں جن میں بارہ سنگھا، بھیڑ، بکری، بیل، بلیاں اور دیگر چوپائے شامل ہیں، ایک تصویر متعدد لہراتے انسانی ہاتھوں کی بھی ہے تاہم ان تمام تصاویر میں سب سے دلچسپ اور پرکشش پینٹنگز غار کے ایک بڑے حصّے میں موجود ہیں جس کو Hall of the Bulls کہتے ہیں۔
یہاں غار کی دیواروں پر چار بیلوں کی بڑی تصویریں نقش ہیں جن میں سے ایک پینٹنگ 17 فٹ لمبی ہے۔
ڈورڈوگنے کے مقام پر ایک کم عمر لڑکے نے 1940ء کی دہائی میں اتفاقی طور پر ان غاروں کو دریافت کیا تھا جن میں 2 ہزار سے زیادہ تصاویر بنی ہوئی ہیں۔
1948ء میں فرانس کی حکومت نے عوام کیلئے ان غاروں کو کھول دیا تھا لیکن یہاں آنے والے سیاحوں کی بداحتیاطی کی وجہ سے یہ قیمتی پینٹنگز تباہ ہونے لگیں جس کے بعد 1960ء کی دہائی میں ان غاروں میں عام داخلے پر پابندی لگا دی گئی۔

لوگوں کی آمد و رفت کی وجہ سے غار کی دیواروں پر پھپھوند اور میل بھی جمنے لگی تھی اور تصاویر دُھندلانے لگی تھیں، جس کے باعث اصل غار میں تو لوگوں کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا تاہم سیاحوں کا ذوق و شوق اور دلچسپی دیکھتے ہوئے اس کے قریب ہی ایک دوسرے غار میں بالکل ہوبہو اصل پینٹنگز جیسی تصاویر بنا کر اسے عوام کیلئے کھول دیا گیا ہے۔
’’لاسو‘‘ کے غاروں میں اصل پینٹنگز کو اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کر لیا ہے جو اس کی اپنی تحقیق کے مطابق حجری دور (پتھر کے زمانے) سے تعلق رکھتی ہیں اور تقریباً 17 ہزار قبل مسیح میں تخلیق کی گئی تھیں۔









