لاہور(نیوز ڈیسک )وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی نئی حکومت نے بیوروکریسی کی تشکیل نو کا آغاز کرتے ہوئے پنجاب کے وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری سمیت وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے تمام اعلیٰ افسران کو واپس بلا لیا ہے۔
نجی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے وزیر اعلیٰ محمد عامر جان کے پرنسپل سیکرٹری کا تبادلہ کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
وفاقی حکومت نے وزیراعلیٰ کے سیکریٹری امپلیمینٹشن سقراط امان رانا اور وزیراعلیٰ کے پرسنل اسٹاف آفیسر حیدر علی کا بھی تبادلہ کردیا، انہیں ہدایت کی کہ وہ اگلے احکامات آنے تک فوری طور پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو رپورٹ کریں۔
اسی طرح وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشن اینڈ کوآرڈینیشن کے ایڈیشنل سیکرٹری نبیل احمد اعوان کا بھی تبادلہ کر دیا گیا، ان کی خدمات پنجاب حکومت کے اختیار میں رکھی گئی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نبیل احمد اعوان کو بطور وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری تعینات کیے جانے کی امید ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت حکومت نے اپنی بیوروکریٹک ٹیم کے انتخاب پر بات چیت شروع کر دی ہے اور صوبے میں اہم مقامات پر تعینات کرنے کے لیے افسران کی نشاندہی کر رہی ہے۔
اس سے قبل گزشتہ حکومت نے طاہر خورشید کو چیف سیکرٹری پنجاب اور فیاض دیو کو انسپکٹر جنرل آف پولیس تعینات کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم مسلم لیگ (ن) کی زیرقیادت نئی وفاقی حکومت نے اس حوالے سے قائم مقام وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی درخواست پر غور نہیں کیا۔
پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے اسمبلی سیکرٹریٹ کے 4 ملازمین کو معطل کر دیا، ان احکامات کو کالعدم قرار دے کر افسران کو بحال کر دیا گیا ہے۔
پرویز الٰہی نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کو تفویض کیے گئے تمام اختیارات 16 اپریل کا اجلاس مکمل ہوتے ہی ختم ہو گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ عدالتی احکامات کے مطابق جہاں تک انتظامی امور کا تعلق ہے، ڈپٹی اسپیکر کے پاس صرف وزیر اعلیٰ کے انتخاب کا اختیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کو کوئی تادیبی اختیارات تفویض نہیں کیے گئے، اس لیے ان کی جانب سے پنجاب اسمبلی کے افسران کی معطلی کے احکامات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔









