اسلام آباد ( نیوز ڈیسک ) الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فرخ حبیب نے کہا کہ ایک پارٹی کیلئے کمیٹی چار مہینے غیر فعال رہتی ہے اور صر ف ایک پارٹی کے کیس کو آگے بڑھایا جاتاہے ، اسلام آباد ہائیکورٹ سے جو استدعا نہیں بھی کی گئی تھی
اس پر بھی فیصلہ آگیا۔ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کی سماعت الیکشن کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر کی زیر سربراہی تین رکنی بینچ نے کی ۔ سماعت کے بعد الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کےرہنما فرخ حبیب نے کہا کہ ایک پارٹی کیلئے کمیٹی چار مہینے غیر فعال رہتی ہے ، ایک ایک مہینے کی تاریخ ڈال دی جاتی ہے
اور صرف ایک پارٹی کے کیس کو آگے بڑھایا جارہا ہے ، کہتے ہیں کہ روزانہ کی بنیادوں پر سماعت کریں ، ہمیں اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے پر اعتراض نہیں لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ سپریم کورٹ کے بغیر امتیاز کے حکم کے خلاف سلوک کریں ، تمام سیاسی جماعتوں کے اکاؤنٹ کی جانچ پڑتال کرنی ہے لیکن پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کا کیس آگے نہیں بڑھ رہا۔ فرخ حبیب نے کہا کہ یہاں پر 65 کروڑ کا حساب موجود نہیں ، 35 کروڑ کا پاکستان پیپلزپارٹی نے حساب نہیں دیا ، انہوں نے 12 اکاؤنٹ چھپا کر رکھے ہیں ،
ہم اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر رہے ہیں جس میں سپریم کورٹ کے 2017 کے فیصلے کا حوالہ دیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں خصوصاً مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سکروٹنی کیسز بھی روزانہ کی بنیادوں پر چلیں ، ان کیسز میں بھی اسی قانون کی نظر سے دیکھنا ہے ، یہاں پر قانون کی کتاب بدل نہیں جاتی ، پولیٹیکل پارٹیز آرڈر کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے اثاثے اور ذرائع سب کچھ بتا نا ہے ، اسی لئے تمام سیاسی جماعتیں اپنے گوشوارے جمع کراتی ہیں ،
جو فارن فنڈنگ کا رونا رو رہے ہیں وہ ریفرنس بناکر بھیجیں سپریم کورٹ میں ، فارن فنڈنگ کا کردار آپ کا ہے ، اسامہ بن لادن سے پیسے آپ نے لئے ، مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی پیسہ وائٹ کرنے کیلئے پارٹی اکاؤنٹ استعمال کرتی رہی ہیں ۔فرخ حبیب کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے لیکن ایسے نہیں ہوگا کہ ہمارے کیسز فاسٹ ٹریک پر چلیں ، ہمارے پاس اپنے ڈونر ز کا ریکارڈ موجود ہے ، پہلی سیاسی جماعت ہیں جنہوں نے پولیٹکل فنڈ ریزنگ کی ہے ۔









