اسلام آباد(ممتاز نیوز) چیئرمین نیپرا توصیف فاروقی نے کہا ہے کہ بجلی کے شعبے میں ہول سیل مارکیٹ بنا رہا ہوں جس میں بجلی کی خرید و فروخت ہوگی، بجلی کی ترسیلی کمپنیوں میں نقصانات کی شرح کم ہوئی ہے، پاکستان میں 15 ملین افراد بغیر بجلی کے رہ رہے ہیں۔وہ جمعرات کو لیڈرز ان اسلام آباد بزنس سمٹ سے خطاب کررہے تھے ۔چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی نے کہا کہ بجلی سے بغیر دیہات اور آبادیوں کیلئے مائیکرو گرڈ کا تصور دیا ہے ، ان مائکرو گرڈز سے نجی شعبہ انہیں بجلی فراہم کرے گا، کراچی میں 2 لاکھ سے زائد پولز کو ارتھ کیا گیا ، کراچی میں 8 گنا اضافی بارش کے باوجود کوئی فرد کرنٹ لگنے سے جابحق نہیں ہوا، اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ کوئی بھی نیا منصوبہ درآمدی ایندھن پر نہیں لگایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 65 فیصد بجلی کی پیداوار درآمدی ایندھن پر ہوتی ہے، بنکنگ، کاروبار، ڈیجیٹل سروسز اور سلوشنز، ٹیلیکام، تعلیم اور توانائی کے موضوعات پر سیشنز جاری ہے ۔چیئرمین نیپرا نے کہا کہ جب چیئرمین نیپرا بنا تو 65 ہزار میگاواٹ کے لائسنس جاری کیئے گئے تھے، 2019 میں پاکستان میں اس کی انتہائی طلب 21 ہزار میگاواٹ تھی، نیپرا کے ایک ڈائریکٹر جنرل کو نیپ نے اٹھا لیا جس کی وجہ سے پورا نظام رک گیا ، نیب کی کارروائی کی وجہ سے کوئی بھی افسر دستاویزات پر دستخط کرنے کو تیار نہیںتھا، پاکستان میں بجلی کی طلب اور رسد کے حوالے سے کوئی منصوبہ بندی نہیں تھی، چئیرمین نیپرا نے کہا کہ ایک گھنٹے کی میٹنگ کرتے تھے تو 59 منٹ اس پر بات ہوتی تھی کہ کس طرح کام نہیں کرنا، سرکاری اداروں میں قابلیت کو سراہا نہیں جاتا، میں پہلا چیئرمین تھا جس نے 24 سال میں این ڈی سی اور دیگر دفاتر کا دورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئی جی سیپ کا نظام نیپرا میں متعارف کرایا گیا ہے، جس میں ہر سال طلب اور رسد کے حوالے سے جائزہ لیتے ہیں۔
پاکستان میں ڈیڑھ کروڑافراد بغیر بجلی کے رہ رہے ہیں، چیئرمین نیپرا کا انکشاف








