بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پاکستان کے حالات بدلنے کےلئے چھوٹے قدم نہیں چھلانگ لگانا ہوگی، جنرل (ر)زبیر محمود حیات

اسلام آباد(ممتاز نیوز)سابق چیئرمین جوائنٹ چیف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے کہا ہے کہ پاکستانیوں کو اپنی آرام گاہوں سے نکلنا ہوگا اور بڑے اقدامات لینا ہونگے،پاکستان کی حالت چھوٹے چھوٹےقدم سے تبدیل نہیں ہو گی، بڑی چھلانگ لگانا ہو گی، نفرت کے بیانیئے کی علامت ہٹلر تھا۔ انسانیت کے بیانیہ کی علامت عبدالستار ایدھی ہیں۔ وہ جمعرات کو لیڈرز ان اسلام آباد بزنس سمٹ سے خطاب کررہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو نئے بیائیے کی اونرشپ حکومتی، ادارتی، اور انفرادی سطح پر لینا ہوگی،بیانیہ میں تبدیلی کرنا ایک مشکل کام ہے،اس کا اسپکٹرم بہت طویل اور پیچیدہ ہوتا ہے،جی سیون کا عالمی جی ڈی پی مین حصہ 14 فیصد گر گیا اور 44 فیصد سے کم ہوکر 30 فیصد رہ گیا ہے۔ ،چین کا عالمی جی ڈی پی مین حصہ 7 فیصد سے بڑھ کر 20 فیصد ہوگیا ہے۔ سابق چیئرمین جوائنٹ چیف اسٹاف کمیٹی نے کہا کہ ریاست کا بیانیہ ایک نئی چیز ہے۔ اس سے قبل انسانی تاریخ میںمختلف بیانئے بادشاہی کے تھے،ہمارے مشرق سے اچھی خبریں نہیںآرہی ہیں ، بھارت کی ریاست کو آر ایس ایس اور ہندوتوا اپنے قابو میں کررہا ہے، ہندو راشٹر میں نہرو کا سیکولر ازم کا نظریہ دفن ہوگیا ،دوسرا اکھنڈ بھارت کو ہم نے بھارتی اسمبلی کی افتتاحی تقریب میں دیکھی ،دنیا روسی مظالم کو بھول جائے گا۔ مگر وہ بھارت کو نہیں بھولیں گے، ہندو قوم پرست ایک جنوبی ایشیا میں ایک تقسیم کو پیدا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں اگر کوئی مسلم کسی کو قتل کرے تو وہ اسٹوری وائرل ہوتی ہے۔ اور ہندو کی اسٹوری نہیں ہوتی،پاکستان کو ایک تبدیل بیانئیے کی ضرورت ہے۔ جس میں بیانئے کے رجحان اور اس کے مضمرات کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے،ٹیکنالوجی ، ڈیجیٹلائزیشن انوویشن اور خواتین کو حقوق کا بیانیہ ہونا چاہیئے ۔جنرل زبیر محمود حیات نے کہا کہ ایک بیانیہ جنگ کا ہےجس میں افراد اور ریاست کو شیطان کے طورپر پیش کر کے جنگ کا ماحول بنایا جاتا ہے،مجھے جس کے فکر ہے وہ ہے جعلی بیانئے کی، کیوں کہ بیانئے کو کوئی بھی فرد ہائی جیک کرسکتا ہے۔ محمد علی جناح نے ایک قوم کا بیانیہ دیا۔انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے زریعے تیزی اور زیادہ افراد تک بیانیہ پہنچایا جاسکتا ہے۔ایک بم مغرب کے گھر میںبنایا جاتا ہے اس کو ہوم میڈ بم کہا جاتا ہے۔ جبکہ عرب ملک مین کوئی گھر میں بم بناتا ہے اس کو امپروائز ایکسپلو ڈیوائس کہا جاتا ہے۔ تاکہ اس کو دہشت گردی سے جوڑا جائے ،سعودی عرب میں تیزی سے تبدیلیاں ہورہی ہیں۔ سعودی عرب میں خواتین کے شمولیت ہر شعبے میں بیانیہ تبدیل کررہی ہے۔ سال 2016 سے سعودی عرب کا جی ڈی پی 17 فیصد بڑھ گیا ہے اس کے نان آئل آمدنی بڑھ گئی ہے۔ سعودی عرب جی 20 ملکوں میں تیزی سے ترقی کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ وہ بھی پانچ سال میں بیانیہ کیسے تبدیل اور منتقل کیا جاتا ہے۔