اسلام آباد(انٹرویو/شیراز حسین)باہمت خاتون ماریہ اقبال نے کہا کہ میں نے نوکری کی اور اپنا زیوربیچ کر قائداعظم یونیورسٹی کے باہر ڈھابہ لگایا تھا، سی ڈی اے نے بغیر نوٹس رات کے وقت میرا ڈھابہ گرا دیا یہاں تک کہ مجھے سامان نکالنے کیلئے بھی نہیں کہا گیا، والدین کے گھر ہو، کچھ نہیں بچا، حکومت سے مدد کی اپیل کرتی ہو۔ جمعہ کو روزنامہ ممتاز سے گفتگو کرتے ہوئے ماریہ اقبال نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ماریہ نے کہا کہ میں ایم ایس سی کر چکی ہو، چار سال تک مارکیٹنگ کمپنی میں کام کیا، اس کے بعد میری شادی ہوگئی جوکہ ڈھائی سال بعد میرا طلاق ہوگیا کیونکہ اس خاندان کو بیٹا چاہیے تھا اور میری بیٹی پیدا ہوگئی۔ ماریہ نے مزید کہا کہ اس کے بعد میں نے دوبارہ نوکری شروع کردی، پیسے جمع کرنے کے ساتھ میں نے اپنا سارا سونا بیچ دیا اور پیسے لیکر میں نے قائداعظم یونیورسٹی کے باہر ڈھابہ کھول دیا،ڈھابہ کھولنے پر تقریبا میرا ساڑے چھ لاکھ کا خرچہ آیا، ساڑے تین مہینے تک میرا کوئی منافع نہیں ہوا، لیکن سی ڈی اے نے بغیر نوٹس کا رات کو سب کچھ گرا دیا، رات کو دیر تک میں جب وہاں پہنچی تو دیکھا کہ سی ڈی اے نے کرین کے ذریعے سب کچھ ختم کر دیا تھا میرا سامان بھی وہاں پر موجود تھا مجھے یہ بھی نہیں بتایا کہ یہاں سے اپنا سامان نکالو، انہوں نے مزید کہا کہ میرا سب کچھ ختم ہوچکا ہے، میں بیٹی کی ساتھ والدین کے گھر رہ رہی ہو، میں حکومت سے گزارش کرتی ہو کہ مجھے کچھ دیا جائے تاکہ میں دوبارہ کچھ کام شروع کر سکو، میرے پاس نہ پیسے ہیں اور نہ ہی کوئی نوکری کیونکہ سب کچھ تباہ ہوگیا ہے۔
اچھی نوکری پر ڈھابہ چلانے کو ترجیح دینے والی ماریہ اقبال








