’ہر بار سِکّہ نہیں دے سکتے‘

سوال یہ ہے کہ آخر کتنی بار سونے کے سِکّے دیے جائیں گے اور اس کے لیے پیسہ کہاں سے آئے گا؟

اس پر فاروق گنائی کہتے ہیں: ’اس مقصد کے لیے میری بیوی نے اپنے مہر سے دو سکّے عطیے میں دیے۔ ہم ہر بار سِکّہ نہیں دے سکتے۔ اس کا مقصد انسان کی نفسیات کو متحرک کر کے لوگوں کو صفائی پر آمادہ کرنا تھا۔ تاہم نقد انعام یا بچوں کے لیے دوسرے گفٹس ہم ضرور دیں گے۔‘

واضح رہے کہ انعام میں دیے گئے سونے کے سِکّے کا وزن ایک گرام ہے جس کی کشمیر میں قیمت پانچ ہزار روپے ہے۔

فاروق کہتے ہیں کہ ’یہ مقابلے روز نہیں ہو سکتے، البتہ اگر حکومت سپورٹ کرے تو سال میں ایک آدھ بار یہ ہو سکتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ مہم کے ساتھ جُڑیں اور اس پراسیس میں سب لوگ آلودگی سے متعلق حساس ہو جائیں گے۔‘

صفائی مہم

تاہم گاوٴں کی صفائی مہم میں شریک کئی رضاکاروں نے بتایا کہ انھیں سمجھ آ گیا ہے کہ ماحول کو صاف رکھنے کے کیا فائدے ہیں۔

حاجرہ نامی ایک خاتون رضاکار نے بتایا: ’یونہی نہیں کہا گیا کہ صفائی نصف ایمان ہے۔ ہمارا ایمان جاگ چکا ہے۔ ہم یہ کسی انعام کے لالچ میں نہیں کرتے ہیں بلکہ اپنا فرض پورا کر رہے ہیں۔‘

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پورے جموں کشمیر سے روزانہ تین ہزار ٹن کچرا نکلتا ہے۔

جموں اور کشمیر کے صوبوں میں شہروں اور بڑے قصبوں میں بلدیاتی اداروں نے گھر گھر جا کر کچرا جمع کرنے کا نظام تو بنایا ہے لیکن سادی وارا جیسے سینکڑوں گاوٴں ہیں جہاں یہ نظام نہیں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ فاروق نے اس دور دراز گاوٴں میں لوگوں میں ماحولیاتی صفائی سے متعلق بیداری مہم چھیڑ دی ہے۔