کئی سال تک رضاکاروں کی مدد سے گاوٴں میں صفائی مہم چلانے کے بعد اننت ناگ کے گاؤں سادی وارا کے سرپنچ فاروق گنائی اُس وقت مایوس ہو گئے جب لوگوں نے اُن کے ’صفائی ساتھیوں‘ پر فقرے کسنا شروع کیا اور وہ ایک ایک کر کے مہم سے الگ ہو گئے۔
گھر میں اپنے خاوند کو مایوس دیکھ کر اُن کی بیوی شبنم فاروق نے انھیں حوصلہ دیا اور اپنے مہر سے دو سونے کے سِکّے مہم کے لیے عطیہ میں دے دیے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’میری بیگم نے یہ ترکیب بھی بتائی کہ صفائی کرنے کا ایک مقابلہ کیا جائے اور سب سے زیادہ کچرا لانے والے کو سونے کا سِکّہ انعام میں دیا جائے۔‘
مقابلہ شروع ہوا تو پرانے رضاکاروں کے ساتھ ساتھ نئے لوگ بھی اس میں شریک ہوئے۔
فاروق گنائی نے زیادہ سے زیادہ کچرے کی مقدار دو کوئنٹل مقرر کی۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے بوریاں بھر بھر کے ایک طے شدہ جگہ پر کچرا جمع کیا لیکن مقابلہ دو نوجوانوں نے جیت لیا۔
ایک سادہ سی تقریب کے دوران مقامی انتظامیہ کے افسروں کی موجودگی میں دونوں نوجوانوں کو انعام سے نوازا گیا۔
’سِکّہ یادگار ہے، بیچوں گا نہیں‘
سونے کا سکّہ جیتنے والے نوجوان فردوس ایک غریب مزدور ہیں جن کی بیوی کی چند سال قبل وفات ہو گئی تھی اور اب وہ اپنی معذور بیٹی کی پرورش کر رہے ہیں۔
وہ کئی سال سے سرپنچ فاروق کی مہم کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
فردوس کہتے ہیں کہ ’میں غریب آدمی ہوں، میں یہ سِکّہ بیچ بھی سکتا تھا لیکن میں اسے ایک یادگار کے طور پر سنبھال کر رکھوں گا۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ فاروق گنائی کے انوکھے مقابلے کی وجہ سے گاوٴں کے لوگوں میں بیداری آ گئی ہے اور اب سب لوگ صفائی مہم میں سنجیدہ ہیں۔
کچرا پھر کہاں جاتا ہے؟
فاروق گنائی کہتے ہیں کہ ایک شیڈ میں کچرے کو جمع کیا جاتا ہے جہاں اس کی سیگریگیشن کی جاتی ہے، یعنی پلاسٹک، کاغذ، کانچ وغیرہ کو الگ الگ بوریوں میں رکھا جاتا ہے۔
اس کے بعد کچرے کو ری سائیکل کرنے کے لیے وادی سے باہر بھیجا جاتا ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’ہم نے دیہی ترقی کے محکمے سے رابطہ کیا ہے اور کچھ فنڈز دستیاب ہوئے تو ہم ایک کمپوسٹ پلانٹ نصب کریں گے جہاں کچرے سے کھاد بھی بنے گی اور بجلی بھی۔‘
سرینگر سے جنوب کی جانب 85 کلومیٹر کی دُوری پر واقع سادی وارا گاوٴں آس پڑوس کے علاقے سے کافی مختلف ہے۔ ندی نالے شفاف ہیں، سڑکوں کے کنارے صاف ہیں اور گندگی کے ڈھیر کہیں نظر نہیں آتے۔

فاروق اپنی بیوی اور درجنوں رضاکاروں کے ہمراہ روزانہ دو گھنٹے پورے سادی وارا گاؤں کی صفائی کرتے ہیں۔
’ہمارا بڑا مسئلہ سکول کے بچوں کا تھا۔ وہ چاکلیٹ یا چپس کے ریپر لاپرواہی سے پھینکتے تھے۔ میں نے سکولوں کا دورہ کر کے وہاں اعلان کیا کہ جو بچہ سب سے زیادہ ریپر اور سافٹ ڈرنک کی بوتلیں جمع کر کے پنچایت میں لائے اُسے ہم نقد انعام دیں گے۔ ہم بچوں میں صفائی اور آلودگی سے متعلق بیداری پیدا کرنا چاہتے ہیں۔‘
سادی وارا سے ملحقہ دوسری پنچایتیں بھی فاروق گنائی کا ماڈل اپنانا چاہتی ہیں۔ ’میرا مقصد صرف یہ گاوٴں صاف رکھنا نہیں۔ یہ ایک تحریک ہے اور میں چاہتا ہوں کہ ہر جگہ لوگ مہم چھیڑیں۔‘













