بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پارٹی سے انحراف کینسر ، حلف کی پاسداری نہ کرنا بے ایمانی ہے، سپریم کورٹ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ پارٹی سے انحراف کو کینسر کہا گیا اور حلف کی پاسداری نہ کرنا بے ایمانی ہے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت کی۔

پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیے کہ 14 ویں ترمیم میں آرٹیکل 63 اے کو آئین میں شامل کیا گیا ، 14 ویں ترمیم میں پارٹی سربراہ کو بہت وسیع اختیارات تھے، الیکشن کمیشن کے پاس پارٹی سربراہ کا فیصلہ مسترد کرنے کا اختیار نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ 2002 میں صدارتی آرڈر کے ذریعے 63 اے میں ترمیم کرکے پارٹی سربراہ کے اختیارات کو کم کردیا گیا، پھر 18 ویں ترمیم میں پارٹی سربراہ کے اختیار کو پارلیمانی پارٹی کے سربراہ کو دے دیا گیا اور حتمی فیصلے کا اختیار سپریم کورٹ کو دے دیا گیا، 18ویں ترمیم میں آرٹیکل 63 اے کے ریفرنس پر فیصلہ کا اختیار الیکشن کمیشن کو دیا گیا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 63 اے میں چار مواقعوں پر وفاداری کو پارٹی پالیسی سے مشروط کر دیا ہے، وفاداری بنیادی آئینی اصول ہے، نااہلی تو معمولی چیز ہے، آرٹیکل 63 اے کا مقصد پارٹی سے وفاداری کو یقینی بنانا ہے، تاہم ضروری نہیں جو حاصل کرنا ہے وہ آرٹیکل 63 اے سے حاصل کریں۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارٹی ٹکٹ ہولڈر ہر امیدوار حلف دیتا ہے، ٹکٹ ہولڈر حلف دیتا ہے کہ کس پارٹی سے وابستہ ہے، حلف کی پاسداری نہ کرنا بے ایمانی ہے، کینسر یہ ہوتا ہے کہ جسم کو تباہ کرنا شروع کر دیتا ہے، پارٹی سے انحراف کو بھی کینسر کہا گیا ہے۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پارٹی سے انحراف پر نااہلی نہیں ہوتی، بے وفائی سخت لفظ ہے اس کا آرٹیکل 63 اے میں ذکر نہیں۔

جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ کیا بے ایمانی پر نااہلی نہیں ہو سکتی، کیا بے وفائی بے ایمانی نہیں ہوتی، جب ایک رکن حلف میں کہتا ہے کہ وہ ایک جماعت کا رکن ہے تو اس کا مطلب ہے وہ پارٹی پالیسز کا پابند ہے، ہر چیز ہر جماعت کے کچھ قوائد و ضوابط ہوتے ہیں جن کی پابندی لازم ہے۔