ٹوکیو: جاپان کی ایک معروف فوڈ چین ’سوشی‘ نے ریسٹورینٹ میں دوستوں کے ہمراہ آنے والے بچے پر 4 لاکھ 80 ہزار ڈالر ہرجانے کا دعویٰ صرف اس لیے کردیا کیوں کہ اس نے سویا کی بوتل کو چاٹا تھا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق معروف ریسٹورینٹ نے اوساکا ڈسٹرکٹ کورٹ میں ہرجانے کے دعوے میں مؤقف اختیار کیا کہ بچے کی اس حرکت کے بعد ان کے ریسٹورینٹس میں گاہکوں کی تعداد تیزی سے گرنے لگی ہے۔
またもや回転寿司で醤油さしや湯飲みをなめまわす動画が投稿される。#回転寿司 #スシロー pic.twitter.com/wPI9X9dKLX
— 爆サイ.com【公式】ツイッター (@bakusai_com) January 29, 2023
انتظامیہ نے بچے کے خلاف مقدمے میں کہا کہ بچے نے ویڈیو وائرل کی جسے دیکھ کر گاہک یہ تصور کرنے لگے ہیں کہ ریسٹورینٹ میں حفظان صحت کے معیار کو برقرار نہیں رکھا جاتا اور بچے کی اس حرکت سے بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہوسکتا ہے۔
بچے نے عدالت میں سویا کی بوتل چاٹنے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اپنی اس حرکت پر ندامت اور پچھتاوا ہے۔ یہ غیر ارادی طور پر ہوا۔ معافی چاہتا ہوں اور عدالت سے مقدمہ خارج کرنے کی درخواست کرتا ہوں۔
بچے نے یہ بھی کہا کہ ان کی ویڈیو کزن نے بنائی اور اسے ایک اور دوست کو بھیج دیا جس نے فوٹیج کو سوشل میڈیا پر وائرل کیا۔ میرا ویڈیو وائرل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
واضح رہے کہ یہ واقعہ رواں برس کے آغاز میں پیش آیا تھا اور 22 مارچ کو ریسٹورینٹ انتظامیہ نے مقدمہ درج کرایا تھا کہ اس واقعے کے باعث تین ماہ میں ان کے گاہکوں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔









