بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

کولمبیا کے خطرناک جنگل میں چار بچے 40دن تک کیسے زندہ رہے؟

کولمبیا میں کہ یکم مئی کو 7 افراد کے ساتھ لاپتہ ہونے والے چھوٹے طیارے کہ جس کا ملبہ 17 مئی کو برآمد ہوا تھا پر سوار 4 بچوں کے زندہ بچ جانے کی سرکاری طور پر تصدیق کردی گئی ہے۔
کولمبیا کے صدر گستاو پیترو نے اس حوالے سے اپنی ٹویٹ میں لکھا ہےکہ ” ملک بھر کے لیے بڑی خوشخبری! 40 روز قبل کولمبیا کے جنگلوں میں گم ہونے والے 4 بچے زندہ مل گئے ہیں۔”
کئی ہفتوں سے بچوں کو زندہ بازیاب کرنے کے لیے وسیع پیمانے کی کاروائیاں کرنے والی فوج نے اس حوالے سے اپنی خبر کو”معجزہ” کے عنوان سے جاری کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ 4 بھائیوں کا جنگل میں تعین کر لیا گیا ہے۔
فوجی اہلکاروں کی طرف سے بازیاب کیےجانے والے بچوں کو جسم میں پانی کی کمی” اور “کیڑے مکوڑوں کے کاٹنے” جیسے مسائل درپیش ہیں۔
18 مئی کو بھائیوں سے متعلق حکام کے بیان میں کہا گیا تھا کہ بچے زندہ ہیں تاہم ان کی تقدیر کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی
بتایا گیا کہ زندہ بچ جانے والوں میں ایک 11 ماہ کا بچہ بھی ہے۔
حادثے کے بعد بچوںوالدہ کی جنگل میں موت ہوگئی تھی۔ 13، 9، چار اور ایک سال کے چار بچے جنگل میں پھنس گئے تھے جہاں ان کی جانوں کو سانپوں، جیگوار اور مچھروں کے خطرے کا سامنا تھا۔
امدادی ٹیموں کو بچوں کی موت کا خدشہ تھا مگر پیروں کے نشان، کھائے ہوئے جنگلی پھل اور دیگر سراغوں نے انھیں بچوں کے زندہ ہونے کی امید دی۔
چھ ہفتوں تک ان بچوں نے جنگل کے سب سے مشکل حالات کا مقابلہ کیا اور اسے کولمبیا کے صدر گستاوو پیترو نے ’تاریخ میں بقا کی عظیم مثال‘ قرار دیا ہے۔
شاید ہی کہیں بچوں کو ایسے حالات سے نمٹنے کی تیاری ملی ہو جو اس خاندان نے انھیں کروا رکھی تھی۔
ویتوتو قبیلے کے لوگ نوعمری میں ہی شکار اور مچھلی پکڑنا سیکھ لیتے ہیں۔ بچوں کے دادا نے صحافیوں کو بتایا کہ ان بچوں میں سے سب سے بڑے لیزلی اور سولینی اس جنگل کے حالات سے باخبر تھے۔
بچوں کی ایک رشتہ دار نے کولمبین میڈیا کو بتایا کہ یہ خاندان باقاعدگی سے ’سروائیول گیمز‘ یعنی نامناسب حالات میں زندہ رہنے کے کھیلوں میں حصہ لیتا تھا۔ ’ہم کھیل کے دوران چھوٹے خیمے قائم کرتے تھے۔‘
’13 سال کی لیزلی کو معلوم تھا کہ وہ جنگل میں کون سے زہریلے پھل نہیں کھا سکتیں۔ انھیں معلوم تھا کہ ایک بچے کا خیال کیسے رکھنا ہے۔‘
طیارہ حادثے کے بعد لیزلی نے درختوں کی شاخوں کو اپنے بالوں کے ٹائی سے باندھا اور عارضی خیمہ بنا لیا۔
مقامی رہنما ایڈون پاکی، جو امدادی آپریشن میں حصہ لے رہے تھے، نے صحافیوں کو بتایا کہ بچوں کو طیارے کے ملبے سے آٹا ملا جسے کھا کر وہ زندہ رہے۔ جب یہ ختم ہوگیا تو انھوں نے پھلوں کے بیچ کھائے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ حادثے کے مقام سے ایک کلو میٹر دور ایک مخصوص پھل کے بیج ڈھونڈنے کے لیے اس کے درخت تک بھی گئے۔
کولمبین انسٹی ٹیوٹ آف فیملی ویلفیئر کے سربراہ ایسٹرڈ کیسیرز نے کہا ہے کہ یہ حادثہ اس وقت ہوا جب جنگل کے درختوں کا پھل پک چکا تھا۔
مقامی لوگوں کے مطابق بچوں کو یہ تربیت دی گئی تھی کہ جنگل میں اپنا خیال کیسے رکھا جاتا ہے
تاہم اس کے باوجود بچوں کو جنگل کے خطرناک حالات میں کئی چیلنجز کا سامنا رہا۔