عیدالاضحیٰ کوعید قربان، بڑی عید، قربانی کی عید بھی کہا جاتا ہے، اس موقع پر تقریباً ہر گھر میں بکرے، اونٹ یا گائے خدا کی راہ میں قربان کرنے کیلئے لائے جاتے ہیں۔
عید پر بچوں کو شوق ہوتا کہ وہ قربانی کے جانوروں کی خدمت کریں انہیں کھلائیں پلائیں، سیر کروائیں لیکن آپ جب بھی اپنے قربانی کے جانور کو لیکر محلے میں نکلتے ہیں، تو اس سے دیکھ کر ہر کوئی پوچھتا ہے ’کتنے کا لیا جانور‘ پھر جوان آپ کتنی ہی کم قیمت کیوں نہ بتائیں مگر وہ جوان میں کہتے ہیں، ’مہنگا لے لیا استاد‘
اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک آرٹسٹ نے علی اصغر نے کچھ تصاویر شئیر کی ہیں، جس کے ساتھ کیپشن میں لکھا ہے کہ ’مہنگا لے لیا استاد‘
یہ رجحان سوشل میڈیا پر بھی خوب مقبول ہے کچھ صارفین نے ”مہنگا لے لیا“ جملے کو لیکر کئی ٹوئٹ بھی کیے ہیں۔ ایک صارف نے بھی ایک مزاحیہ ٹوئٹ کیا۔
شاہزیب نامی ایک جذباتی ٹوئٹ میں لکھا کہ کیا ہوا تو مہنگا لے لیا، قربانی نیت سے ہوتی ہے قیمت سے نہیں۔
فیضان خان لکھتے ہیں کہ آپ کی ذندگی میں ایک ایسا فرد لازمی ہوتا ہے جوکہتا ہے مہنگا لے لیا، وہاں سے لیتے تو سستا مل جاتا۔
مبشر نے لکھا کہ جانور ایسا لو کہ چار لوگ روک کر بولیں، استاد مہنگا لے لیا ہے۔
واضح رہے کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے ملک کے مختلف حصوں سے شہادتیں موصول ہونے پراعلان کیا تھا کہ ملک بھر میں عیدالضحیٰ 29 جون بروز جمعرات کو ہوگی۔
عیدالاضحی:مہنگا لے لیا استاد‘ سوشل میڈیا تخلیق کاروں کا پسندیدہ موضوع بن گیا








