پیرس سینٹ جرمن (پی ایس جی) کے مینیجر کرسٹوف گالٹیر کو بیٹے کے ہمراہ نسل پرستی اور اسلاموفوبیا کے الزامات کی تحقیقات کیلئے گرفتار کر لیا گیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانسیسی فٹبال کلب پیرس سینٹ جرمن کے مینیجر کرسٹوف گالٹیر کو نیس میں انکے بیٹے ہمراہ نسل پرستانہ اور اسلاموفوبک تبصروں کے باعث گرفتار کیا گیا، سابق ڈائریکٹر فٹبال جولین فورنیئر کی لیک ہونے والی ای میل میں گالٹیئر پر الزام لگایا تھا کہ کلب کے اسکواڈ میں “بہت زیادہ سیاہ فام اور مسلمان کھلاڑی” ہیں۔
کرسٹوف گالٹیر نے جولین فورنیئر کو کہا تھا کہ ہماری ٹیم میں اتنے سیاہ فام اور مسلمان نہیں ہونے چاہئیں، میں ٹیم میں بڑی تبدیلیاں لانا چاہتا ہوں تاکہ مسلمان کھلاڑیوں کی تعداد میں کمی آئے۔
گالٹیئر نے بھی مبینہ طور پر اپنے دستے کے بارے میں بڑبڑاتے ہوئے کہا کہ وہ ایک “غلام کی ٹیم” ہیں، جہاں “صرف کالے” ہوتے ہیں اور “آدھی ٹیم جمعہ کو مسجد جاتی ہے”۔
اس معاملے کی تحقیقات شروع ہونے کے فوراً بعد، فرانسیسی شہری کے وکیل نے ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے اسے نسل پرست اور اسلامو فوبک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان الزامات سے انہیں “دکھ” پہنچا ہے۔
دوسری جانب کرسٹوف گالٹیر کا پی ایس جی سے معاہدے کا ایک سال باقی ہے لیکن آنے والے دنوں میں ان کی جگہ لوئس اینریک لے سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ قطری ملکیتی کلب نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی بیان نہیں دیا ہے۔
🚨🚨 | BREAKING: PSG coach Christophe Galtier is under arrest.
Both him and his son are under investigation for discrimination whilst at OGC Nice. pic.twitter.com/XVrrRnhPkF
— CentreGoals. (@centregoals) June 30, 2023









