اسلام آباد(طارق محمودسمیر) آئی ایم ایف کے ساتھ سٹینڈ بائی معاہدے کے بعد ملکی معیشت کیلئے مثبت حالات پیدا ہونا شروع ہوگئے ہیں نہ صرف سرمایہ کاروںکا اعتماد بحال ہوا ہے بلکہ سٹاک ایکسچینج میں ایک نیا ریکارڈ بن گیااور ڈالر کو بھی ریورس گیئر لگنا شروع ہوگیا اور دو ہفتوں کے دوران ڈالر 245 تک آنے کے امکانات ہیں ،آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر کے باعث پاکستانی معیشت کو 125بلین ڈالرز سے زائدکا نقصان برداشت کرنا پڑا اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی اس کا تعین کرنا زیادہ مشکل ہے بھی ہے اور نہیں بھی ہے ،وزیراعظم شہبازشریف جو اپنی محنت اور لگن کے حوالے سے جانے پہچانے جاتے ہیں اور انہوں نے پنجاب کے وزیراعلیٰ کے طور پر میگا پراجیکٹس چاہے اورینج ٹرین ہو،میٹرو بس سروس ہو یا سی پیک کے تحت بجلی کے منصوبوں کی تکمیل ہو ان کی نہ صرف بروقت تکمیل یقینی بنائی بلکہ اربوں روپے کی بچت بھی کروائی ، وزیر خزانہ اسحاق ڈار جو اپنے مزاج کے لحاظ سے ایک الگ پہچان رکھتے ہیں ،غصے میں آجاتے ہیں حالانکہ انہیں تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے ،انہوں نے بھی وزارت خزانہ سنبھالتے وقت اپنے رویے کے باعث آئی ایم ایف کو ناراض کیا اور مشکلات پیدا ہوئیں جن کی وجہ سے ڈالر 300روپے سے اوپر گیا اور آئی ایم ایف سے معاہدے کیلئے وزیراعظم کو خود میدان میں آنا پڑا حالانکہ ماضی میں کسی بھی وزیراعظم نے اتنی مرتبہ ایم ڈی آئی ایم ایف سے نہ تو ملاقاتیں کیں اور نہ ہی ٹیلیفونک رابطے کئے ، سٹاک ایکس چینج میں بہتری عارضی نہیں ہونی چاہیے اس کو مستقل بنیادوں پر اسی انداز میں چلانے کی ضرورت ہے تاہم شرط یہ ہے کہ ملک میں سیاسی افراتفری اور بے یقینی کی کیفیت ختم کی جائے ،ڈالر کے حوالے سے بھی مثبت خبریں آئی ہیں ،وزیرخزانہ کے دعوے کے مطابق ڈالر 270روپے پر آگیا ہے جبکہ مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قیمت میں 6روپے کمی ہوئی ہے ،صدر فاریکس ایسوسی ایشن ملک بوستان نے کہا ہے کہ بینکس بند ہونے کے باعث انٹر مارکیٹ کا ریٹ جاری نہیں ہوا۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر بیچنے والے موجود تھے خریدنے والا کوئی نہیں تھا،آج منگل کو بینک کھلنے کے بعد پاکستانی روپے کی قدر میں اضافہ ہوگا۔ آئی ایم ایف سے معاہدہ خوش آئند ہے۔ پہلی قسط ملنے کے بعد امریکی کرنسی کی قدر 245 روپے تک گرسکتی ہے۔علاوہ ازیں قائمقام صدر اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے چیئرمین سینیٹ کی مراعات کا بل شدید تنقید کے بعد واپس لینے کا اعلان کردیا ہے اور آئندہ چند روز میں وہی چالیس ارکان جنہوں نے بل کی منظوری کی تحریک ایوان میں پیش کی تھی ان کی درخواست پر یہ بل واپس لے لیا جائے گا،اس بل کے تحت چیئرمین سینٹ کو عہدے پر موجود ہونے اور ریٹائرمنٹ کے بعد ایسی مراعات دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا جو موجودہ معاشی حالات میں درست نہیں تھا اور قومی خزانے پر بڑا بوجھ پڑ رہا تھا ،چیئرمین سینیٹ نے دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بل واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔صادق سنجرانی کا یہ موقف درست ہے کہ سیکرٹری سینیٹ جو 22 گریڈ کا آفیسر ہے اس کی تنخواہ 4لاکھ تیس ہزار روپے ہے اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہ 2 لاکھ چالیس ہزار روپے ہے اور اسی طرح سینیٹرز کی تنخواہ ایک لاکھ 70 ہزار روپے ہے ، اس فرق کو دور کرنے کی ضرورت ہے ،ہر سینیٹر کی تنخواہ گریڈ 22 کے برابر کی جائے اور اس ضمن میں وزارت خزانہ سے سینیٹ سیکرٹریٹ کو بات کرنی چاہیے اور بل بھی اگر اس طرح کا لایا جائے تو اچھا رہے گا، دریں اثناء سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کا جو واقعہ پیش آیا ہے اس پر نہ صرف پاکستان بلکہ تمام اسلامی دنیا میں احتجاج کی لہر دوڑ پڑی ہے ،یورپ اور دیگر ممالک میں گزشتہ چند سالوں سے قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعات تسلسل سے ہورہے ہیں اور اشتعال انگیزی اور گستاخانہ واقعات کی روک تھام کیلئے عملاً کوئی اقدامات نہیں ہوئے ،سویڈن کی حکومت نے بھی اس شخص کے خلاف کوئی کارروائی نہیںکی ،اظہار آزادی رائے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اسلام اور مقدس کتابوںکا مذاق اڑایا جائے ،او آئی سی اور بالخصوص ایسے اسلامی ممالک جہاں سے پٹرولیم مصنوعات یورپ کو بھجوائی جاتی ہیں وہ اگر یورپی حکومتوںکو یہ دھمکی دیں اور واضح کریں کہ قرآن پاک کی بے حرمتی برداشت نہیںکی جائے گی اور جس ملک میں بھی ایسا کوئی واقعہ پیش آیا تو تیل کی سپلائی معطل کردی جائے گی تو میرا نہیں خیال کہ کوئی بھی یورپی ملک خاموش بیٹھے گا بلکہ ایسی حرکت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی ،وزیراعظم شہبازشریف نے کابینہ اجلاس میں اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور دفتر خارجہ کو ضروری احکامات جاری کئے ہیں لیکن حیران کن بات ہے کہ جس طرح کے مظاہرے عراق اور دیگر اسلامی ممالک میں ہوئے ہیں پاکستان میں کسی بھی مذہبی جماعت نے بڑے پیمانے پر سویڈن واقعے پر کوئی احتجاج نہیں کیا حالانکہ اس واقعے پر احتجاج کیلئے کال دی جائے تو عوام ازخود سڑکوں پر آئیں گے۔








