لاہور(ممتازنیوز)امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ سویڈن میں قرآن کریم نہیں دو ارب مسلمانوں کے دل جلائے گئے ہیں۔ جماعت اسلامی کے رابطوں کے نتیجہ میں اتفاق رائے ہوا کہ المناک واقعہ کے خلاف پاکستان، ترکی، ملائیشیا، لبنان، بنگلہ دیش، مراکش ، جنوبی افریقہ سمیت پانچوں براعظموںکے مختلف ممالک میں سات جولائی جمعتہ المبارک کو مشترکہ طور پر یوم مذمت منایا جائے گا۔مساجد کے آئمہ اکرام اور شیوخ سے درخواست ہے کہ نماز جمعہ کے بعد مظاہروں کی خود قیادت کریں۔ روس کے صدر ولادی میر پیوٹن، کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو اور پوپ فرانسس کی جانب سے واقعہ کی مذمت پر شکرگزار ہیں، چاہتے ہیں عیسائی دنیا کے امام توہین مذاہب رکوانے کے لیے عملی کردار بھی ادا کریں۔ امت مسلمہ اسلامی ممالک کے حکمرانوں اور او آئی سی کی جانب سے لفظی بیانات کی بجائے اسلاموفوبیا کے خلاف ٹھوس حکمت عملی کی منتظر ہے۔ نائن الیون کے بعدقرآن کریم کی مانگ میں بے پناہ اضافہ کے ردعمل کے طور پر نفسیاتی مریضوں اور مذہبی دہشت گردوں کی جانب سے اسلام پر حملوں کا منظم سلسلہ شروع ہوگیا جس سے دنیا کے امن کو خطرہ لاحق ہے، سویڈن میں قرآن کریم کی بے حرمتی ایک فرد کا مسئلہ نہیں، عید اور حج کے ایام کے دوران جب کروڑوں مسلمان سنت ابراہیمی ؑکی پیروی میں مصروف تھے اور انسانیت کی بھلائی کے لیے دعائیں کی جارہی تھیں، سرکاری سرپرستی میں عظیم سانحہ رونما ہوا۔ قرآن کریم روشنی ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے لی ہے، غلیظ حرکات سے یہ نور ختم نہیں ہوگا، نوجوان قرآن کریم کو ترجمہ سے پڑھیں اور زیادہ سے زیادہ تلاوت کی عادت اپنائیں۔منصورہ میں سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیرالعظیم اور سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی قیصر شریف کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت نے کہا کہ حکمران خاندانوں کی طرف سے باہر بیٹھ کر کیے گئے فیصلے پانی میں مدھانی ہیں جنھیں قوم تسلیم نہیں کرے گی، ملک کے حقیقی وارثین عوام کو فیصلے کا اختیار دیا جائے، صاف اور شفاف انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن سیاسی سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرے، ادارے آئین کی پاسداری کرتے ہوئے سیاست سے غیرجانبدار ہو جائیں۔ پی ڈی ایم، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ ادارے ان کا ساتھ دیں، قوم انھیں نیوٹرل دیکھنا چاہتی ہے۔ موجودہ حکومت 12اگست کے بعد ایک دن کے لیے بھی رہی تو غیرآئینی،غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہو گی جسے جماعت اسلامی برداشت نہیں کرے گی، اس کا مقابلہ اور مخالفت کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ کراچی میں عوام نے جماعت اسلامی پر اعتماد کیا، پیپلزپارٹی کا میئر ان کے اپنے گلے کا پھندہ بن جائے گا، دھاندلی زدہ نظام نہیں چل سکتا۔ جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے کہ تمام منتخب بلدیاتی نمائندوں کی موجودگی یقینی بنا کر کراچی میئر الیکشن کا انعقاد کیا جائے۔سراج الحق نے کہا کہ آئی ایم ایف سے قرض ملنے پر حکمرانوں کی جانب سے خوشی کے شادیانے بجانے اور ایک دوسرے کو مبارکباد دینے کا عمل سمجھ سے بالاتر ہے، قرضوں سے بہتری نہیں آئے گی، عالمی مالیاتی ادارے سے 23بار قرضہ لیا گیا، حالات تبدیل نہیں ہوئے، 13جماعتوں کی حکومت کے پاس بہتری کا کوئی منصوبہ ہے نہ ٹیم ، پی ٹی آئی کے سابقہ دور کا تسلسل ہے ، شہروں میں آٹھ گھنٹے اور دیہاتوں میں 12گھنٹے لوڈشیڈنگ جاری ہے، وزیراعظم نے کہا تھا کہ چھ ماہ میں لوڈشیڈنگ ختم نہ ہوئی تو نام بدل دینا، وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ ڈالرکی اصل قدر دو سو روپیہ ہے ، وہ قومی کرنسی اس قیمت سے نیچے لائیں گے تو اپنی اہلیت کا دعوی کریں۔ حکمرانوں نے اپنی مراعات کم کیں نہ کابینہ کا سائز گھٹایا، کرپشن اور سودکے ہوتے ہوئے معیشت بہتر نہیں ہوسکتی، نام نہاد سویلین حکومتیں اچھی حکمرانی قائم نہیں کرسکیں، وسائل کی لوٹ مار اور غیر منصفانہ تقسیم جاری ہے۔ مسائل کا حل صرف جماعت اسلامی ہے جس کے پاس کرپشن سے پاک اہل قیادت ہے، ملک میں شفاف انتخابات ہوئے تو جماعت اسلامی حیران کن نتائج دے گی۔
سویڈن میں قرآن کریم نہیں دو ارب مسلمانوں کے دل جلائے گئے ،سراج الحق







