اسلام آباد(طارق محمود سمیر ) سابق وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے دھماکہ خیز بیان کے بعد ایف آئی اے کا متحرک ہونا اور وزراء کی طرف سے سابق وزیراعظم کے خلاف سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کے قانون کے تحت مقدمہ درج کر کے تحریک انصاف کے چیئرمین کو جلد گرفتار کرنے کا بھی واضح عندیہ دے دیا گیا ہے اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی آئین اور قانون کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بات کہہ دی ہے کہ عمران خان نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی ہے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی ۔ سابق وزیر اطلاعات اور تحریک استحکام پاکستان کی ترجمان ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان بھی میدان میں آگئی ہیں اور انہوں نے اعظم خان کے ساتھ تحریک انصاف کی حکومت کے دوران سابق پرنسپل سیکرٹری سے اپنے اختلافات کو نظر انداز کرنے کے بجائے پریس کانفرنس میں نہ صرف عمران خان بلکہ اعظم خان کی بھی خوب کلاس لی ہے اور عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی سیے متعلق بھی سخت گفتگو کی اور انہیں پیرنی کے لقب سے مخاطب کیا۔ فردوس عاشق اعوان جب وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات تھیں تواعظم خان نے ان سے استعفیٰ لیا تھا اور سابق وزیراعظم سے ملاقات کرانے سے انکار کر دیا تھا جس پر اس وقت بھی فردوس عاشق اعوان نے اعظم خان پر سنگین الزامات عائد کئے تھے ۔ اعظم خان کے 164کے بیان کے بعد ایف آئی اے متحرک ہو چکی ہے، 25جولائی کو عمران خان کو بھی طلب کیا گیا ہے اور عمران خان کے وکلاء نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ ایف آئی اے کی تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور ایف آئی اے کے نوٹس کو جلد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا اور عدالت سے حکم امتناعی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی جبکہ شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کو بھی اسی کیس میں ایف آئی اے کی جے آئی ٹی 24جولائی کو طلب کر رکھا ہے ۔ سائفر کا معاملہ گزشتہ سولہ ماہ سے زیر بحث ہے اور عمران خان نے اس سائفر سے خوب سیاسی فائدہ اٹھایا ، عوام میں اینٹی امریکہ اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ بنایا ، بعد ازاں اینٹی امریکہ بیانیے سے ہٹ گئے اور یوٹرن لیکر تمام تر الزامات سابق آرمی چیف اور دیگر شخصیات پر عائد کر دیئے تھے۔ سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری جو امریکہ میں پاکستان کے سفیر بھی رہ چکے ہیں نے سائفر کے معاملے پر جو رائے دی ہے وہ بہت اہمیت کی حامل ہے اور انہوں نے بیلنس تجزیہ کیا ہے ، اعزاز چوہدری کے مطابق سائفر ایک خفیہ دستاویز ہوتی ہے اور ہرملک کا سفیر اپنے دفتر خارجہ کو مختلف ملاقاتوں کے حوالے سے اپنی رپورٹس بھجواتے ہیں اور اسی طرح کی ایک رپورٹ اسد مجید نے مارچ 2022میں بھجوائی تھی اور امریکہ حکام سے اپنی گفتگو کا حوالہ دیا تھا ، ایسی رپورٹس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ حکومت ان رپورٹس کا جائزہ لیکر فیصلے کرتی ہے تاہم سابق وزیراعظم کی طرف سے سائفر کو جلسے میں لہرانا غلط فیصلہ تھا اور اس کا مقصد سیاسی فائدہ اٹھانا تھا اور امریکہ کو بھی بعد میں اندازہ ہوا کہ سائفر کے معاملے پر سیاست ہو رہی ہے ۔ اعزاز چوہدری نے پی ڈی ایم حکومت کے وزراء کی اس رائے کو بھی مسترد کیا کہ سائفر منظر عام پر لانے سے امریکہ سے پاکستان کے تعلقات خراب ہوئے ۔ انہوں نے کہاکہ ایسی باتیں درست نہیں ہیں ۔سائفر کے معاملے میں اب ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی ہو گی اور ایف آئی اے کی تحقیقات مکمل ہونے پر عمران خان ، شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کے خلاف مقدمہ بھی درج ہو سکتا ہے ۔
غلط فیصلہ
سائفر کو جلسے میں لہرانا غلط فیصلہ،مقصد سیاسی تھا








