ٹیکسوں پر نظرثانی نہ کی گئی تو احتجاجی تحریک چلائیں گے۔ سردار طاہر محمود
ریئل اسٹیٹ شعبے پر عائد ٹیکسوں کے موضوع پر آئی سی سی آئی میں سمینار کا انعقاد
اسلام آباد ( ممتازنیوز) تعمیرات اور رئیل اسٹیٹ شعبہ معیشت کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہ شعبہ 70سے زائد صنعتوں کی کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیتا ہے، سرمایہ کاری میں اضافہ کرتا ہے، روزگار کے بے شمار نئے مواقع پیدا کرتا ہے، ٹیکس ریونیو کو بہتر کرتا ہے اور معیشت کو مضبوط کرتا ہے تاہم حکومت نے حالیہ بجٹ میں رئیل اسٹیٹ شعبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار کر دی ہے جس سے پراپرٹی کا کاروبار تباہ ہو جائے گا اور معیشت کی ترقی شدید متاثر ہو گی لہذا حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر رئیلٹرز کو مشاورت میں شامل کرے اور اس اہم شعبے پر عائد زائد ٹیکسوں میں فوری کمی کرے تاکہ کاروبار اور معیشت کو ان کے تباہ کن نتائج سے بچایا جا سکے۔ان خیالات کا اظہار اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احسن ظفر بختاوری نے آئی سی سی آئی کے زیر اہتمام اسلام آباد اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن اور فیڈرل آف ریئلٹرز پاکستان کے تعاون سے رئیل اسٹیٹ شعبے کے ٹیکس ایشوز پر منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
احسن بختاوری نے کہا کہ ریئل اسٹیٹ شعبے کے بہت سے کاروبار پہلے ہی ٹیکسوں کی بھرمار کی وجہ سے بند ہو چکے ہیں اور اگر ان ٹیکسوں پر جلد نظر ثانی نہ کی گئی تو مزید کاروبار بند ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکسوں میں اضافہ کرنے کے بجائے کنسٹرکشن اور رئیل اسٹیٹ شعبے کو پرکشش مراعات فراہم کرنے پر غور کرے جس سے ملک میں مزید سرمایہ کاری آئے گی، کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا اور معیشت جلد بحال ہو گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ چیمبر ٹیکس مسائل کے حل کی کوششوں میں اسلام آباد اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن اور فیڈریشن آف رئیلٹز پاکستان کے ساتھ ہرممکن تعاون کرے گا۔
اسلام آباد اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن اور فیڈریشن آف رئیلٹرز پاکستان کے صدر سردار طاہر محمود نے رئیل اسٹیٹ شعبے کے ٹیکس مسائل پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ سیکشن 7E کے تحت غیر منقولہ اثاثوں کی ڈیمڈ انکم پر 1 فیصد ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے جس سے پراپرٹی کے کاروبار پر تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ رئیل اسٹیٹ شعبے کے کاروبار کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے اس ٹیکس کو فوری طور پر واپس لے۔ انہوں نے کہا کہ فائلر خریداروں اور بیچنے والوں پر ودہولڈنگ ٹیکس 2 فیصد سے بڑھا کر 3 فیصد جبکہ نان فائلر خریداروں پر 7 فیصد سے بڑھا کر 10.5 فیصد اور نان فائلر سیلرز پر 4 فیصد سے بڑھا کر 6 فیصد کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان ٹیکس اقدامات سے اس شعبے کی کاروباری سرگرمیاں ماند پڑ جائیں گی جبکہ ملک کے ٹیکس ریونیو میں بہتری کے بجائے ٹیکس چوری کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے رئیل اسٹیٹ شعبے پر زائد ٹیکسوں پر نظرثانی نہ کی تو رئیلٹرز ان ٹیکس اقدامات کے خلاف بھرپور احتجاج شروع کریں گے۔
آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر فاد وحید، نائب صدر انجینئر اظہر الاسلام ظفر، گروپ لیڈر خالد اقبال ملک، چیمبر کے سابق صدر اور سنٹوریس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سردار یاسرالیاس خان، فیڈریشن آف رئیلٹرز پاکستان کے چیئرمین مسرت اعجاز خان، اسلام آباد اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین عابد خان، سیکرٹری جنرل چوہدری زاہد رفیق، چوہدری مسعود، چوہدری عبدالرؤف، ملک راشد طفیل، رانا ارشد اور دیگر نے بھی اس موقع پر خطاب کیا اور حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ معیشت کو مزید مشکلات سے بچانے کے لیے رئیل اسٹیٹ شعبے پر عائد زائد ٹیکسوں پرنظرثانی کی جائے۔









