بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پارلیمنٹ سے اہم ترامیم منظور،نگران حکومت کووسیع اختیارات نہ ملے

اسلام آباد(طارق محمود سمیر) پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں الیکشن ایکٹ 2017کی شق230میں اہم ترمیم منظور ہوگئی ہے اور وفاقی وزرا سردار ایاز صادق ، اعظم نذیر تارڑ نے پیپلزپارٹی سمیت دیگر اتحادی جماعتوںکو منا لیا تاہم نگران حکومت کو وسیع تر اختیارات دینے کی تجویزکو بل سے ختم کرکے اس کی منظوری دی گئی ہے ، اس بل کی منظوری کے نتیجے میں عالمی مالیاتی اداروںکے ساتھ ہونے والے معاہدوںکی پاسداری یقینی بنانے میں نگران حکومت کوکچھ اختیارات دیے گئے ہیں، بل کی منظوری کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، آصف علی زرداری سمیت اہم وفاقی وزراء اور ارکان اسمبلی کی کافی بڑی تعداد ایوان میں موجود نہیں تھی حالانکہ اس بل کی اہمیت کے پیش نظر وزیراعظم اور اہم شخصیات کو ایوان میں اپنی حاضری یقینی بنانی چاہیے تھی۔علاوہ ازیں بہاولپور یونیورسٹی میں جو سکینڈل سامنے آیا ہے اس کی اہمیت کے پیش نظر ابھی تک حکومت کی اتنی دلچسپی نظر نہیں آئی جتنی اس معاملے میں نظر آنی چاہیے تھی، بعض چیزوں پر پردہ ڈالا جا رہا ہے ، گورنر پنجاب بلیغ الرحمان جو بہاولپور سے ہی تعلق رکھتے ہیں انہوں نے بھی کھل کرکوئی بیان نہیں دیا اور نہ ہی وزیراعظم شہبازشریف نے اتنی پھرتی دکھائی جتنی آج کل وہ جس سپیڈ سے ترقیاتی منصوبوںکا افتتاح کر رہے ہیں اور دانش سکول میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں اور لاہور میں ایک بچی کو فوری طور پر ملازمت بھی دی مگر بہاولپور یونیورسٹی میں بچیوںکیساتھ زیادتی کے معاملے میںکوئی نوٹس نہیں لیا اور نہ ہی رپورٹ مانگی، میڈیا رپورٹس میں مسلم لیگ ق کے سیکرٹری جنرل اور وفاقی وزیر فوڈ سکیورٹی طارق بشیر چیمہ کے بیٹے ولی دادکے اس سکینڈل میں ملوث ہونے کی باتیں ہورہی ہیں،چین میں اگر ایک وزیر خارجہ کو سکینڈل میں ملوث ہونے پر عہدے سے برطرف کیا جاسکتا ہے تو پاکستان میں ایک یونیورسٹی میں بچیوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے سکینڈل میں ملوث افرادکی پشت پناہی کے الزام میں وفاقی وزیر اور اس کے بیٹے کے خلاف کیوں ایکشن نہیں ہوسکتا اور اس معاملے پر ابھی تک کسی وزیر نے یا رکن نے ایوان میں بھی بات نہیںکی ، یہ ارکان اسمبلی صرف اپنے ترقیاتی کاموں اور اسلحہ لائسنس جاری کرانے میں بھی مصروف ہیں، عدالتیں چاہیے ہائیکورٹ ہو یا سپریم کورٹ بہت سے معاملات پر ازخود نوٹس لیتی رہتی ہیں اور خاص کر ایسا معاملہ جس میں سیاسی پہلو ہو عدالتیں حکومتوںکو ہلا کر رکھ دیتی ہیں لیکن اسلامیہ یونیورسٹی کے معاملے پر نہ سپریم کورٹ نے کوئی نوٹس لیا اور نہ ہی ہائیکورٹ میںکوئی کارروائی شروع ہوئی ہے ۔علاوہ ازیں وزیراعظم شہبازشریف نے انکشاف کیا کہ واپڈا اور بجلی بنانے والی کمپنیوں میں سالانہ 450ارب روپے کی کرپشن ہورہی ہے جبکہ وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر خان نے وزیراعظم کی اس بات کو غلط قرار دیا اورکہا کہ 450ارب روپے سے کم کرپشن ہورہی ہے ، وفاقی وزیر جوگزشتہ 15ماہ سے توانائی کی وزارت کے انچارج ہیں اور انہوں نے 15ماہ میںکرپشن میںکمی کی ہے یا اضافہ کیا ہے لیکن ہر ماہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرکے اس کرپشن کو مزید فروغ دے رہے ہیں کیونکہ ہمارے پاس توکوئی ایسی اطلاع نہیںکہ بطور وفاقی وزیر خرم دستگیر نے کرپشن میں ملوث کسی اعلیٰ آفسیر، ایکسئن ، ایس ڈی او یا کسی اورکیخلاف کرپشن پرکوئی کارروائی کی ہو،کسی کو ملازمت سے نکالا ہو ،کوئی معاملہ ایف آئی اے، نیب کو بھیجا ہو ، وہ صرف تقرریاں اور تبادلوں میں مصروف رہتے ہیں اور ان کی وزارت کے افسران یہ بتاتے ہیںکہ وفاقی وزیرکیونکہ خود وزیراعظم کے ساتھ دوروں یا دیگر میٹنگز میں مصروف ہوتے ہیں اور ان کی وزارت میں تبادلوںکا اختیار انہوں نے اپنے ایک بھائی کو دے رکھا ہے ، بھائی اگر حکم جاری کردے توکام ہوجاتا ہے، خرم دستگیر نے وزیراعظم کی بات کو جھٹلانے کی کوشش کی جو ڈسپلن کی سنگین خلاف ورزی ہے، وزیراعظم کو اس پر ایکشن لینا چاہیے تھا لیکن وہ وضع داری میں خاموشی اختیار کر لیتے ہیں ۔