اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ 9 مئی کے دن جو کچھ ہوا سب عمران خان کا کیا دھرا ہے۔
نجی ٹی وی پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے واقعات میں سینیئر پارٹی قیادت کو پُر امن احتجاج کی لائن دی گئی تھی جبکہ حملوں وغیرہ کیلئے ایک الگ گروپ بنایا گیا تھا جو ہمارے علم میں نہیں تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ حملوں کیلئے بنائے گئے اس گروپ کو ہدایات کہیں اور سے مل رہی تھیں، شکر ہے اس دن گولی نہیں چلی ورنہ انتشار ہو جاتا۔
سابق وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اس دن کا ڈرامہ اس لیے رچایا گیا تھا کہ ملک میں اور فوج میں انتشار پھیلے اور فوج بدنام ہو۔
پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ اس سارے معاملے کے فیصلے عمران خان خود کرتا تھا اور سینیئر قیادت کی رائے کو کبھی خاطر میں نہیں لاتا تھا۔
پرویز خٹک نے دعویٰ کیا ہے کہ القادر ٹرسٹ کے معاملے پر کابینہ سے جھوٹ بول کر منظوری لی گئی۔
پرویز خٹک کا کہنا تھا القادر ٹرسٹ کے معاملے پر شہزاد اکبر نے کابینہ کو دھوکے میں رکھا اور جھوٹ بول کر منظوری لی گئی۔پرویز خٹک کا کہنا تھا کابینہ اجلاس میں ہمیں بتایا گیا تھا کہ منی لانڈرنگ کا لندن میں پکڑا گیا پیسہ قومی خزانے میں جمع ہو گا، ہمارا برطانوی حکومت کے ساتھ معاہدہ ہے اور ساری رقم جو غالباً 190 ملین پاؤنڈ تھی وہ قومی خزانے میں جمع ہو گی، اس معاملے میں ہم سے غلطی ہوئی۔سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کابینہ میٹنگ کے اگلے روز ہم دو تین وفاقی وزرا بیٹھے تھے اور ادھر یہ بات جب سامنے آئی تو میں نے کہا کہ آپ لوگ خود تو نہیں کہہ سکتے تھے تو مجھے بتا دیتے میں اس معاملے کو وہاں اٹھاتا لیکن اس وقت تک یہ معاملہ ہمارے ہاتھ سے نکل چکا تھا۔بعد میں اس معاملے پر آواز اٹھانے سے متعلق سوال پر پرویز خٹک کا کہنا تھا آپ کو شاید عمران خان کے بارے میں نہیں پتہ، اگر کوئی انہیں سچ بتا دے تو انہیں برا لگتا ہے کیونکہ جب وہ فیصلہ کر لیتے ہیں تو نہیں چاہتے کہ کوئی میرے فیصلے کے خلاف بات کرے۔توشہ خانہ کے تحائف کے حوالے سے سابق وزیر دفاع کا کہنا تھا توشہ خانہ کے تحائف کے حوالے سے ایک قانون ہے کہ اس کی قیمت لگائی جاتی ہے اور پھر اسے خرید کر رکھ لیا جاتا ہے لیکن تمام تر قوانین کو بالائے طاق رکھ کر توشہ خانہ کے تحائف بیچنا قابل شرم حرکت تھی۔پرویز خٹک کاکہناتھا ٹی وی پروگرام دیکھ کر پتہ چلا کہ جو گھڑی بیچی گئی اس کی قیمت تو 60 سے 65 کروڑ تھی۔
خیال رہے کہ 9 مئی کے روز تحریک انصاف کے چیئرمین کی گرفتار ی کے بعد پی ٹی آئی کے مشتعل مظاہرین نے ملک کے مختلف شہروں میں جلاؤ گھیراؤ کرتے ہوئے سرکاری و نجی املاک اور عوامی مقامات کو نذرآتش کردیا تھا۔









