اسلام آباد(طارق محمود سمیر ) توشہ خانہ کیس میں ہر روز ایک نئی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے،عمران خان کے مخالفین اور حکومت یہ توقع کر رہی تھی کہ جمعہ کے روز ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں خان دلاور کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیں گے یا سنا دیا جائے گا لیکن اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل سننے کے بعد تیسری مرتبہ کیس ٹرائل کورٹ کے جج کے پاس یہ کہہ کر بھجوا دیا کہ متعلقہ عدالت اس بات کا جائزہ لے کہ توشہ خانہ کیس قابل سماعت ہے یا نہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے قبل دو مرتبہ یہی جج ہائیکورٹ کے احکامات کے بعد توشہ خانہ کیس کو قابل سماعت قرار دے کر اہم قانونی تقاضے پورے کر چکے ہیں ،کیس کے ملزم سابق وزیراعظم عمران خان پر فرد جرم بھی عائد ہو چکی ہے اور ان کا سیکشن 342کا بیان بھی ریکارڈ ہو چکاہے جبکہ الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز اپنے حتمی دلائل بھی دے چکے ہیں لیکن اسی اثناء میں جمعہ کو ہائیکورٹ سے حکم آتا ہے کہ توشہ خانہ کیس کے قابل سماعت ہونے کا معاملہ دوبارہ وہی جج سنیں گے جس پر خواجہ حارث اور تحریک انصاف کے دیگر وکلاء شدید اعتراضات اٹھا رہے ہیں ۔ تحریک انصاف کی یہ خواہش اورکوشش تھی کہ ہائیکورٹ اس کیس کوکسی نئے جج کے پاس بھجوا دے لیکن ہائیکورٹ نے ایسا ریلیف نہیں دیا اورکیس ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں خان دلاور ہی سنیں گے۔ ماضی میں یہ روایات رہی ہے کہ اگرکسی جج پرکوئی فریق عدالت میں اعتراض کر دے تو وہ کیس سے الگ ہو جاتا تھا مگر حالیہ چند سالوں میں سپریم کورٹ ہو یا ہائیکورٹ اور سیشن عدالتیں اب اگر جج پر کوئی اعتراضات اٹھایا جاتا ہے تو بہت کم ہی جج ایسے ہوتے ہیں جوکیس نہیں سنتے ۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطاء بندیال اور دیگر چند ججز پرگزشتہ ڈیڑھ سال سے پی ڈی ایم حکومت کے وکلاء اہم آئینی نوعیت کے مقدمات میں اعتراضات کرتے رہے ہیں اور یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ فل کورٹ تشکیل دی جائے ۔ چیف جسٹس نے فل کورٹ کی تشکیل کا مطالبہ بھی کبھی تسلیم نہیںکیا اور نہ ہی کیس سننے والے بنچ سے الگ ہوئے ۔ حتیٰ کہ آڈیو لیک کیس میں ان کی قریبی عزیزہ اور سینئر وکیل خواجہ طارق رحیم کی اہلیہ کی گفتگوکا معاملہ بھی سامنے آیا مگر چیف جسٹس صاحب نے خودکیس سنا ، اگر سپریم کورٹ نے یہ روایت قائم کی ہوتی کہ اعتراضات سامنے آنے پر معزز جج صاحبان کیس سے الگ ہو جاتے تو ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں خان دلاور پر بہت دبائو پڑتا۔علاوہ ازیں سینیٹ میں جمعہ کے روز اہم قانون سازی ہوئی، پیمرا ترمیمی بل کوشش کے باوجود سینیٹ سے پاس نہیں ہو سکا ، چند سینیٹرزکے اعتراضات پر چیئرمین سینیٹ نے بل منظورکرنے کی بجائے اسے قائمہ کمیٹی کے پاس بھجوا دیا ہے ۔ قائمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات کے چیئرمین تحریک انصاف کے رہنما فیصل جاوید ہیں جو 9مئی کے واقعات کے بعد پہلے روپوش ہوئے ہیں اور بعد ازاں لندن پہنچ گئے ۔ اب چیئرمین کا یہ اختیار ہے کہ وہ کسی بھی کمیٹی ممبرکو اجلاس کی صدارت کا حکم دے سکتے ہیں ۔ فیٹف اتھارٹی کے قیام کے بل پر ایوان میں اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی جب پیپلزپارٹی کی رہنما اور خارجہ امور کی وزیر مملکت حنا ربانی کھر نے بل منظوری کے لئے پیش کیا تو پیپلزپارٹی کے رضا ربانی ، جے یو آئی کے کامران مرتضیٰ اور نیشنل پارٹی کے طاہر بزنجوکھڑے ہوگئے اور بل کی حمایت کرنے سے انکارکر دیا۔اسی طرح جب وزیر توانائی خرم دستگیر نے گیس چوری کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کے لئے ترمیمی بل پیش کیا تو ان حکومتی ارکان نے بل کی مخالفت کی اور تحریک انصاف کے ارکان کے ساتھ مل گئے جس پر چیئرمین سینیٹ کو ووٹنگ کرانا پڑی جس میں حکومتی ارکان کی تعداد زیادہ ہونے پر بل کی منظوری دی گئی۔ نگران وزیراعظم کے معاملے پر مشاورت کا عمل تیز ہوگیا ہے ، وزیراعظم شہبازشریف نے اتحادی جماعتوںکے رہنمائوں سے مشاورت کاایک دورکیا ہے جس میں اتحادی جماعتوں نے نگران وزیراعظم نامزدکرنے کا اختیار وزیراعظم شہبازشریف کو دینے کا فیصلہ کیا ۔ذرائع کے مطابق شاہد خاقان عباسی، اسلم بھوتانی، نواب اسلم رئیسانی ، ذوالفقار مگسی سمیت دیگر نام زیر غور آئے تاہم روز نامہ ممتازکی اطلاعات کے مطابق نگران وزیراعظم کے لئے اس وقت دو ریٹائرڈ بیورو کریٹ کو فیورٹ قرار دیا جارہاہے ۔ ان دونوں ریٹائرڈ بیوروکریٹ کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے اور وہ اہم عہدوں پر تعینات رہے ہیں ۔
نگران وزیراعظم کےلئے دو ریٹائرڈ بیورکریٹ فیورٹ








