اسلام آباد (ممتازنیوز) پاکستان میں تعینات ملاوی کے ہائی کمشنر یونس عبدالکریم نے کہا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تجارت کو بہتر فروغ دینا چاہتا ہے کیونکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ بہت سی اشیاء میں تجارت کرنے کی اچھی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک وفد کے ہمراہ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پر تاجر برادری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ٹریڈ فیڈریشن فار ایسٹ افریقہ کے صدر چوہدری کرامت اللہ بھی اس موقع پر ان کے ہمراہ تھے۔
ہائی کمشنر نے کہا کہ ملاوی کاروباری ماحول کو سازگار بنانے کے لیے بہت سے اقدامات کر رہا ہے اور پائیدار اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی معیشت کے مختلف شعبوں بشمول ہوٹل انڈسٹری، تعمیرات، سیاحت اور زراعت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی تلاش میں ہے لہذا پاکستان کے سرمایہ کارملاوی میں جوائنٹ وینچرز اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے پر توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ملاوی کنفیڈریشن آف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے چیف ایگزیکٹیو پاکستان کا دورہ کریں گے اور آئی سی سی آئی کو ان کے ساتھ ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے کی کوشش کرے تاکہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان کاروباری روابط کو فروغ دے کر باہمی کاروباری تعلقات کو مضبوط کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئی سی سی آئی اپنا ایک وفد ملاوی لے جانے کی کوشش کرے تاکہ وہاں کے ہم منصبوں کے ساتھ ملاقات کر کے باہمی تجارت کو بہتر کیا جائے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ان کا ہائی کمیشن اس سلسلے میں چیمبر کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گا۔
اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احسن ظفر بختاوری نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملاوی جنوب مشرقی افریقہ کا ایک اہم ملک ہے اور ہم افریقی مارکیٹ تک آسان رسائی حاصل کرنے کے لیے ملاوی کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ملاوی کے درمیان دو طرفہ تجارت نہ ہونے کے برابر ہے جس کی اہم وجہ ایک دوسرے کی مارکیٹ کے بارے میں معلومات کا فقدان ہے۔ انہوں نے ملاوی کے تجارتی وفد کے دورہ پاکستان کو ایک مثبت اقدام قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک باہمی تعاون کے نئے شعبوں کو تلاش کرنے کے لیے باقاعدگی کے ساتھ تجارتی وفود کا تبادلہ کرنے کی حوصلہ افزائی کریں۔
احسن بختاوری نے کہا کہ پاکستان ملاوی سمیت افریقی ممالک کو اپنی متعدد مصنوعات برآمد کر سکتا ہے جن میں ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، آلات جراحی، چاول، زرعی مصنوعات، کیمیکل، کھیلوں کا سامان، چمڑے کی مصنوعات اور دیگر شامل ہیں۔ اسی طرح پاکستان ملاوی اور دیگر افریقی ممالک سے مختلف خام مال اور دیگر ضروری مصنوعات درآمد کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان قریبی تعاون قائم کر کے باہمی تجارتی تعلقات کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی آئی پہلے افریقہ میں کاروبار کے نئے مواقع تلاش کرنے کیلئے پہلے ہی اپنا ایک وفد ایتھوپیا لے جا چکا ہے اور چیمبر ایک وفد ملاوی لے جانے پر بھی غور کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی آئی پاکستان اور ملاوی کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو بہتر فروغ دینے کے لیے ان کے ہائی کمیشن کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہے گا۔
مقصود تابش، عامر حسین، چوہدری محمد علی، عباس ہاشمی، ظریف خان، محترمہ منیزہ ماجد، محترمہ پروین خان اور محترمہ ناصرہ علی نے بھی اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور پاکستان و ملاوی کے درمیان کاروباری تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے مختلف تجاویز دیں۔
ملاوی پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات کو بہتر فروغ دینا چاہتا ہے، ہائی کمشنر








