اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں سزا سنائے جانے کے بعد لاہور زمان پارک سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
اس سے قبل پولیس عمران خان کو لے کر اسلام آباد پہنچی اور پمز اسپتال میں ان کا طبی معائنہ کرایا گیا۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں کارکنوں نے احتجاج کیا ہے، اس دوران پولیس کی جانب سے گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کے بعد ان کا ایک (پہلے سے ریکارڈ کیا گیا) بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا کہ کہ قوم میری گرفتاری پر احتجاج کے لیے نکلے۔ تاہم ملک کے مختلف حصوں سے چند کارکنان ہی احتجاج کے لیے نکلے ہیں، کہیں پر بھی کوئی بڑا احتجاج ریکارڈ نہیں ہوا۔
اس کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی نے بھی ملک گیر پُرامن احتجاج کی کال دے دی ہے۔
عمران خان کی گرفتاری کے خلاف زمان پارک کے باہر احتجاج کرنے والے 30 کارکنوں کو پولیس نے گرفتار کیا جن میں 2 خواتین بھی شامل ہیں۔
لاہور میں عمران خان کی گرفتاری کے خلاف پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے احتجاج کیا جا رہا ہے
اس کے علاوہ پشاور میں بھی چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کی کال دی گئی تھی، جس پر پولیس نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے گرفتاریاں عمل میں لائی ہیں۔
پشاور میں احتجاج کرنے والے سابق ناظم زاہد ندیم کو بھی پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ شہر کے اہم مقامات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب ڈپٹی کمشنرپشاور نے دفعہ 144 کا نفاذ کرتے ہوئے ہر قسم کے احتجاج پر پابندی عائد کر دی ہے۔
لاہور اور پشاور کے علاوہ کوئٹہ میں بھی کارکنوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا ہے اور اس دوران عمران خان کی رہائی کے لیے نعرہ بازی بھی کی گئی ہے۔
پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو سزا کے خلاف فیصل آباد میں بھی کارکنوں کی جانب سے احتجاج ریکارڈ کروایا گیا ہے۔ مرکزی رہنما تحریک انصاف فرخ حبیب نے کارکنوں کی جانب سے احتجاج کی تصاویر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر شیئر کی ہیں۔
اس کے علاوہ صدر پی ٹی آئی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ عمران خان کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت گرفتار کیا گیا ہے، ہم عمران خان کی گرفتاری کے خلاف پر امن احتجاج کریں گے۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ ہمارا ایک تحریک اور جذبے کا رشتہ ہے جو کبھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔
سابق وفاقی وزیر و تحریک انصاف کے سینیئر رہنما مراد سعید نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ عمران خان کی گرفتاری قابل مذمت ہے۔ خوف کی فضا اسی لیے قائم کی جارہی تھی کہ جب عمران خان کو گرفتار کیا جائے تو کوئی احتجاج کے لیے نہ نکلے۔
مراد سعید نے کہا ہے کہ ہمیں ہمارے لیڈر نے پُرامن رہنا سکھایا ہے۔ قوم ملک بھر میں پُرامن احتجاج کرے اور اپنے لیڈر کی رہائی کا مطالبہ کرے۔ فیصلہ قوم نے کرنا ہے کہ غلام رہنا ہے یا آزادی حاصل کرنی ہے۔
واضح رہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو اسلام آباد کی سیشن عدالت نے 3 سال قید کی سزا سنائی ہے جس کے بعد انہیں زمان پارک سے گرفتار کیا گیا ہے۔
توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد سیشن کورٹ کے جج ہمایوں دلاور نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، سیشن کورٹ نے عمران خان پر توشہ خانہ کا جرم ثابت ہونے پر 3 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی اور وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے گئے، ساتھ ہی عمران خان کو کسی بھی عوامی عہدے کے لیے 5 سال کے لیے نا اہل بھی کر دیا گیا۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا توشہ خانہ کیس کے قابل سماعت ہونے کااعتراض بھی مسترد کیا گیا ہے۔
عدالت نے تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہاکہ ملزم نے الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات جمع کرائیں، ملزم کرپٹ پریکٹسز کے مرتکب پائے گئے ہیں، ملزم پر کرپٹ پریکٹس کے جھوٹے بیان کا الزام ثابت ہوتا ہے۔
عمران خان اٹک جیل منتقل، مختلف شہروں میں احتجاج، متعدد کارکنان گرفتار







