اٹک (جاوید اختر اعوان ) چیئر مین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں تین سال سزا اور پا نچ سال نا اہلی کے بعد گرفتار کر کے ڈسٹرکٹ جیل اٹک منتقل کر دیا گیا ،عمران خان کو درجنو ں پولیس اور ایلیٹ فو رس کی گاڑیو ں کی سخت سیکورٹی میں ڈسٹرکٹ جیل منتقل کیا گیا ،ڈسٹرکٹ جیل کے اطراف میں تقریباً ایک ہزار گز دو ر تک تمام راستو ں کو بند کر دیا گیا اور جیل کے باہر پولیس اور ایلیٹ فو رس کی بھاری نفری تعینا ت کر دی گئی، ڈسٹرکٹ جیل اٹک کی حدود میں ہائی الرٹ کی صورتحال نافذ کر دی گئی اور عمران خان کے بلاک کو بھی صاف ستھرا کر دیا گیا ، پی ٹی آئی ضلع اٹک کی قیادت 9 مئی واقعہ کے بعد پہلے ہی انڈر گراونڈ اور رو پو ش ہونے اور چیئر مین عمران خان کی اٹک جیل منتقلی کے متعلق متضاد اطلاعات کی وجہ سے کوئی ایک کارکن بھی جیل کے باہر موجود نہ تھااور نہ ہی کسی قسم کا احتجاج دیکھنے کو ملا ،ڈسٹرکٹ جیل اٹک میں تحریک انصاف کی مرکز ی قیادت شاہ محمود قریشی کے بعد عمران خان کو لایا گیا ہے ،وا ضح رہے کہ 1999 میں سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور اس سے قبل سابق صدر آصف علی زرداری بھی اٹک جیل میں قید رہے جس کے بعد اٹک جیل بین الاقوامی سطح پر شہہ سرخیوں کی زینت بنتی رہی، اٹک جیل کو گردونواح سے پاک آرمی تنصیبات کے حصار میں ہونے کی وجہ سے باقی علاقوں کی نسبت محفوظ تصور کیا جا تا ہے اسکے باوجود کہ ضلع اٹک پنجاب کا آخری ضلع ہے خیبر پختو نخوا اور پنجاب کی سرحد دریائے سندھ نے قائم کر رکھی ہے۔
عمران خان اٹک جیل منتقل،سکیورٹی ہائی الرٹ








