راولپنڈی(ممتازنیوز)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا بے حد مشکور ہوں جنہوں نے منصب سنبھالا تو بغیر وقت ضائع کئے ہمیں پاکستان کو آگے بڑھانے کا پروگرام دیا۔
وہ جی ایچ کیو میں تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے جی ایچ کیو کا الوداعی دورہ کیا ۔جی ایچ کیو آمدپر آرمی چیف نے ان کا استقبال کیا۔
وزیر اعظم نے پرنسپل اسٹاف آفیسرز سے ملاقات کی۔اس موقع پرانہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ انہوں نے یادگار شہداءپر پھول رکھے۔

شہباز شریف نے شہداء، غازیوں اور ان کے خاندانوں کو وطن کے دفاع کے لیے قربانیوں،خدمات پر خراج تحسین پیش کیا۔ شہباز شریف نے علاقائی سالمیت کے تحفظ اور دہشت گردی کی لعنت سے لڑنے میں مسلح افواج کے کردار کو سراہا۔
وزیر اعظم نے شہداءکے70 خاندانوں اور 30جنگی زخمیوں میں خصوصی مالی امداد کے چیک اور شہداءکے وارڈز میں تعلیمی سرگرمیوں کے تحت لیپ ٹاپ بھی تقسیم کیے۔ وزیر اعظم شہداءاور غازیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کی تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے تقریب سے خطاب میں کہاکہ شہدا اور غازیوں نے پاکستان کے دفاع کےلیے وہ عظیم قربانیاں دی ہیں جن کی کوئی مثال نہیں ملتی اور قربانیوں کا یہ سلسلہ پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے اب تک جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدا نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر موت کا مقابلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ 14 اگست قریب ہے۔اس دن پاکستان کو وجود میں آئے 76 برس مکمل ہو جائیں گے ۔ یہ خون سے لکھی گئی تاریخ قیامت تک ہمیں یہ احساس دلاتی رہے گی کہ جوانوں نے اس بات کی فکر کیے بغیر کہ ان کے پیچھے بڑھے والدین اور بیوی بچے ہیں ،پاکستان کے دفاع کےلئے جام شہادت نوش کیا اور پاکستان کو دشمن کی میلی آنکھ سے ہمیشہ کے لیے بچاگئے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ہمیں ان شہدا اور غازیوں کی تاریخ اور ان کے متعین کردہ راستے پر چلنا ہے ۔ سکیورٹی کے لحاظ سے پاکستان کومضبوط بنانا ہے جو ان غازیوں اور شہدا کی عظیم قربانیوں کے نتیجے میں محفوظ ہو چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنادیا ۔اب قیامت تک دشمن پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ تاہم دنیا کے سامنے عزت و وقار کے ساتھ چلنے کے مزید تقاضے ہیں۔ سب سے بڑی شرط یہ ہے کہ ملک میں غربت و بیروزگاری کے خاتمے کر کے ان شہدا کی عظیم قربانیوں کا احترام کر سکتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ کروڑوں پاکستانی منتظر ہیں کہ کب وقت آئے گا جب پاکستان قرضوں سے جان چھڑائے گا اور اپنے پاوں پر کھڑا ہوگا۔آج ہمیں یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ بہت وقت گزر گیا۔ پلوں سے پانی بہت بہہ گیا۔ ہمیں اور کچھ نہیں تو شہدا کی قربانیوں کا احترام کرنا ہے۔ وسائل کی بندر بانٹ کے بجائے وسائل منصفانہ تقسیم کے لیے ایک نظام پر متحد ہو جائیں۔یہ شہدا کے اہل خانہ کا بھی تقاضا ہے۔چاہے وہ اپنی زبان پر نہ لائیں ۔ تاہم ان کا دل اور روح پکار پکار کر مطالبہ کر رہے ہیں کہ کب ملک کو قائد کا پاکستان بنائیں گے اور ہمارے بچھڑ جانے والوں کی قربانیاں رنگ لائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان انتہائی مشکل ترین وقت سے نکل آیا ہے۔ جس کےلئے کافی کاوشیں کی گئیں۔ہم سب کو مل کر پاکستان کو دوبارہ تعمیر کرنا ہے اور یہ ہمارا فرض اولین ہے ۔ورنہ تمام باتیں بھلادی جائیں گی اور ایک بات یاد رہے گی کہ قائد اعظم کی قیادت میں پاکستان وجود میں آیا لیکن اس کے تقاضے اور خواب 76 برس بھی ادھورا ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ (آج) بدھ کو ہماری حکومت کی مدت مکمل ہوجائے گی اور ہم آئینی تقاضے پورے کرتے ہوئے اقتدار نگران حکومت کے حوالے کریں گے۔ تاہم جانے سے پہلے پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے مربوط و جامع نظام وجود میں آیا ہے۔ حکومت کی تمام مشینری، صوبوں اور دیگر اداروں نے مل کر جامع پروگرام وضع کیا ہے جو کہ عملی شکل اختیار کر چکا ہے۔ گزشتہ روز اس سے متعلق آخری اجلاس ہوا تھا جس میں تمام معاملات کو طے کرلیا گیا۔ اجلاس میں طے ہوا کہ پاکستان کی زراعت کو مل کر ترقی دینی ہے۔ پاکستان میں موجود اربوں کھربوں روپے کے معدنی وسائل کو استعمال میں لانا ہے۔ نوجوان نسل کو جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو آگے بڑھانے کا منصوبہ بناچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر سے یہاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی لیکن اس میں کچھ وقت لگے گا۔









