بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

کل اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری صدر کو بھیج دوں گا: شہباز شریف

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ کل قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی صدر کو سمری بھیج دوں گا۔

وزیر اعظم نے سولر ٹیوب ویلز کے حوالے سے کنونشن سینٹر اسلام آباد  میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زراعت کے ذریعے پاکستان میں خوشحالی آسکتی ہے۔ حکومت کی مدت پوری ہونے سے پہلے سولر ٹیوب ویلز کا منصوبہ شروع کیاکیونکہ ملک کو سستی بجلی کی ضرورت ہے۔ اُن ممالک میں بھی سول سسٹم چل رہے ہیں جہاں سورج ہر وقت نہیں ہوتا جبکہ ہمارے ملک میں سال کے 12 مہینے سورج رہتا ہے۔حکومت سستی بجلی فراہم کرنے کے لیے شمسی توانائی پر تمام شعبوں کو منتقل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ سستی بجلی کے بغیر صنعت اور زراعت ترقی نہیں کر سکتی۔ زراعت معاشی ترقی کا اہم ترین جزو ہے۔ 15 ماہ میں بدقسمتی سے ملک میں سیاسی افراتفری کا سامنا تھا۔ تین دن پہلے جلسے میں ڈیفالٹ کا مقصد سمجھایا تھا۔ اگر آئی ایم ایف پروگرام نہ ہوتا تو عوام مشکلات سے دو چار ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ کل صدر مملکت کو حکومت اور اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش کردوں گا جس کے بعد معاملات نگراں حکومت کے ہاتھ میں چلے جائیں گے مگر امید ہے کہ شمسی توانائی کا منصوبہ چلتا رہے گا تاکہ مستقبل میں پاکستان اور شہریوں کو سستی بجلی مل سکے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بجلی ہر طبقے اور شہری کی ضرورت ہے اور اس کی فراہمی بھی ضروری ہے۔ملک میں آنے والی کسی بھی حکومت کا اولین فرض سستی بجلی فراہم کرنا ہے۔ گزشتہ 15 ماہ میں ہم نے سستی بجلی کے لیے شمسی توانائی کے منصوبے پر کام شروع کیا مگر آئی ایم ایف پروگرام اور اُس کی مشکلات کیوجہ سے پروگرام پر دھیان نہیں دے سکے۔

انہوں نے کہا کہ اگر آئی ایم ایف کا پروگرام نہ ہوتا اور پاکستان ڈیفالٹ کرجاتا تو ادویات کے لیے قطاریں لگی ہوتیں اور دوائیں دستیاب نہ ہوتیں۔ جان بچانے والی دوائیوں کے لیے لوگ مارے مارے پھرتے۔ پیٹرول پمپوں پر لائنیں لگی ہوتیں۔ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر مزید کم ہوتے جس کو بچانے کے لیے ہم اپنی درآمدات کو مزید کم کرتے تاکہ زرمبادلہ بچا سکیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ درآمدات بند ہونے کی صورت میں صنعتیں بند ہوتیں اور بے روزگاری بڑھ جاتی۔ عالمی بینک ہمارے ساتھ کام نہیں کرتے اور امپورٹ کے لیے ایل سیز نہیں کھلتیں اور وہ ہمارے بینکس پر بھروسہ نہیں کرتے۔ ایسے میں بھیانک صورت حال پیدا ہوتی اور افراتفری مچ جاتی۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ ہوا جس کی شرائط بہت کڑی اور سخت ہیں، مگر ہم اس پروگرام کے بعد ڈیفالٹ سے بچ گئے اور اللہ نے پاکستان کو بڑی پریشانی سے بچایا۔

شہباز شریف نے کہا کہ مسئلہ آئی ایم ایف پروگرام نہیں بلکہ مستقبل کے معاشی اہداف ہیں۔ ہمیں ملک کو ترقی دینے کے لیے زراعت کے پہیے کو تیزی سے گھمانا ہوگا اور سستی توانائی کے منصوبوں پر جانا ہوگا، آئی ایم ایف نے بھی توانائی پر سبسڈی دینے پر ہمارے ہاتھ پیر باندھ دیے ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کو مہنگی بجلی مل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قرض سے بہتر ہے کہ ہم فقیری میں زندگی بسر کرلیں اور قرض سے جان چھڑائیں۔