بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

برطانوی یونیورسٹی نے چیئرمین پی ٹی آئی کو سزا سنا نے والے جج کو کورس سے نکالے کی تردید کردی

لندن: برطانیہ کی یونیورسٹی آف ہُل کی انتظامیہ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں تین سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا نے والے ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاورکو یونیورسٹی سے نکالے جانے کی تردید کردی۔یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ اعلامیے میں کہاگیاکہ ورکشاپ میں شامل پاکستانی ججز کے انتخاب میں اس کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان سے کورس میں شرکت کرنے والے ججز کا انتخاب پاکستان کی متعلقہ عدالتیں کرتی ہیں، موجودہ کورس کے شرکا کا انتخاب اسلام آباد سپریم کورٹ اور پشاور کی ہائی کورٹس نے کیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق ہل یونیورسٹی 2014 سے پاکستانی ججز کے لیے ورکشاپ منعقد کروا رہی ہے۔
ادھر یونیورسٹی کے ایک ذریعے نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ جج کو نکالنے کے دعوے جعلی اور بے بنیاد ہیں ، جج ہمایوں دلاور شیڈول کے مطابق کورس میں حصہ لے رہے ہیں اور وہ اس کے مکمل ہونے تک یہاں موجود رہیں گے ۔ پی ٹی آئی نے جج ہمایوں دلاور کی شرکت منسوخ کرانے کی مہم چلائی لیکن یونیورسٹی نے ایسے مطالبات ماننے سے انکار کردیا ۔
برطانیہ میں پی ٹی آئی کے حامیوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ مذکورہ سےجھگڑیں گے۔اس مقصد کے لیے چار پی ٹی آئی ورکرز لندن کے ہیتھرے ایئرپورٹ پر بھی پہنچے لیکن انہیں جج ہمایوں دلاور نہیں ملے ۔
یونیورسٹی کے ترجمان نے کہا کہ انتظامیہ نے کسی بھی غیر متعلقہ فرد کو یونیورسٹی کے احاطے میں قدم رکھنے سے روک دیا اور خبردار کیاہے کہ اگر کسی نے قانون کی خلاف ورزی کی تواس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی ۔

واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری اور نااہلی کا فیصلہ دینے والے جج ہمایوں دلاور جہاں تحریک انصاف کے حامی صارفین کی جانب سے سوشل میڈیا پر تنقید کی زد پر ہیں وہیں ان کے حوالے سے آئے روز کوئی نہ کوئی جعلی خبر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کی زینت بنتی رہتی ہے۔
عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کا فیصلہ سنانے کے بعد جج ہمایوں دلاور اس وقت لندن کی یونیورسٹی آف ہل میں ایک ٹریننگ کا حصہ ہیں اور گزشتہ دنوں اسی یونیورسٹی کے باہر تحریک انصاف کے حامیوں نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔ جیسے ہی جج ہمایوں دلاور کی شرکت کی خبریں سوشل میڈیا کی زینت بنی تو پی ٹی آئی کے حامیوں اور کارکنوں نے یونیورسٹی کو ای میلز، ٹویٹس اور فیس بک پوسٹس بھیجی اور اپنی پوسٹس میں یونیورسٹی کو ٹیگ کیا اور جج کو کورس سے نکالنے کا مطالبہ کیا۔

تحریک انصاف کے حامی صارف شایان علی نے اس حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ شئیر کی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ یونیورسٹی آف ہل کے باہر موجود ہیں۔ پوسٹ شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ میں جج ہمایوں دلاور سے بات کرنے ہل یونیورسٹی پہنچا تو میری ٹیم پر حملہ کیا گیا اور دھمکیاں دی گئیں۔

شایان علی نے اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر یہ خبر بھی وائرل کی کہ ان کے احتجاج کے بعد جج ہمایوں دلاور کو اس کورس سے نکال دیا گیا ہےجس پر یونیورسٹی آف ہل کی انتظامیہ نے وضاحتی اعلامیہ جاری کیا گیا۔

اسی حوالے سے ایکٹیوسٹ شمع جو نیجو نے یونیورسٹی آف ہل کے بیان کو ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس ایک بار پھر جعلی خبروں کا پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ جج ہمایوں دلاور کو یونیورسٹی آف ہل سے نکال دیا گیا ہے۔ وہ طالب علم نہیں ہے جنہیں نکال دیا جائے۔ وہ ایک ٹریننگ میں شرکت کے لیے گئے ہیں، جسے پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے یونیورسٹی کے بیان کی وضاحت کے مطابق منتخب کیا ہے۔

اس سے قبل بھی جج ہمایوں دلاور کی اہلیہ سے منسوب ایک ویڈیو گردش کررہی تھی جس کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ جج ہمایوں دلاور نے پیسے لیے ہیں جبکہ وہ ویڈیو دو سال پرانی اور خاتون جج ہمایوں دلاور کی اہلیہ نہیں تھیں۔

یاد رہے کہ توشہ خانہ کیس کا فیصلہ دینے والے سیشن جج ہمایوں دلاورسمیت دیگر جوڈیشل آفیسرز کامران بشارت،زیباچودھری، شعیب بلال،عابدہ ساجد، صائمہ اقبال، عائشہ شبیر، ثاقب جواد،رضوان قریشی اور صنم بخاری یونیورسٹی آف ہل کی ورکشاپ میں شریک ہیں، سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے اکاونٹس سے یہ الزام عائد کیاگیا کہ جج ہمایوں دلاور کو عمران خان کو سزا سنانے کی وجہ سے کورس پر بھیج کر نوازاگیا ہےلیکن اس کے برعکس دستاویزات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ہمایوں دلاور کی ورکشاپ میں شرکت کی توثیق 31 جولائی کو ہوئی اور اس ضمن میں شارٹ لسٹ میں ا ن کا نام ایک جج فیضان حیدر کوبرطانیہ کے لئےویزہ بروقت نہ ملنے پر ڈالا گیا۔