اسلام آباد(ممتازنیوز )وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہاکہ پیمرا (ترمیمی) بل 2023ءمیں تمام فریقین کی مشاورت شامل رہی،پی ایف یو جے، سی پی این ای، پی بی اے، ایمنڈ سمیت تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز مشاورت میں شامل رہے،پیمرا (ترمیمی) بل 2023ءمیں بڑی تبدیلی اظہار رائے سے متعلق آرٹیکل 19 اور مس انفارمیشن، ڈس انفارمیشن کی تعریف کی شمولیت تھی۔
بدھ کواپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ ترمیمی بل میں چیئرمین پیمرا کے اختیارات کم کئے گئے،میں نے میڈیا ورکرز کے ساتھ مشکلات کو قریب سے دیکھا ہے، ورکنگ جرنلسٹس اور میڈیا ورکرز مشکل حالات میں اپنے اداروں کے لئے کام کرتے ہیں۔
مریم اورنگزیب نےکہاکہ بدقسمتی سے پیمرا (ترمیمی) بل 2023ءکو کالا قانون کہا گیا،اس بل میں ورکنگ جرنلسٹس اور میڈیا ورکرز کی بہبود کے لئے تاریخی ترامیم شامل کی گئیں،میڈیا ورکرز اور صحافیوں کی تنخواہوں کو اس بل میں تحفظ فراہم کیا گیا،جو ادارہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے واجبات دو ماہ میں ادا نہیں کرے گا، اسے حکومت پاکستان بزنس نہیں دے گی،صحافیوں اور میڈیا ورکرز کیلئے کم از کم اجرت کے قانون پر عمل درآمد اس بل میں یقینی بنایا گیا،میڈیا ورکرز کے لئے کوئی ایسا پلیٹ فارم نہیں تھا جہاں ان کی اپیل سنی جا سکے۔
انہوں نے کہاکہ کونسل آف کمپلینٹس میں میڈیا ورکرز، صحافیوں اور مالکان کو نمائندگی دی گئی، نیوز پیپرز ایمپلائیز کے لئے آئی ٹی این ای کا پلیٹ فارم تھا، آئی ٹی این اے میں قابل چیئرمین کو لگایا گیا،آئی ٹی این ای کے پلیٹ فارم سے 9 ماہ کے اندر 14 کروڑ روپے کی براہ راست ریکوریاں کی گئیں، وزیراعظم نے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لئے ہیلتھ انشورنس کارڈ کا اجراءکیا،جو صحافی اور ورکنگ جرنلسٹس فرائض کی ادائیگی کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، ان کے لئے وزیراعظم نے خصوصی فنڈ کے قیام کا اعلان کیا۔
مریم اورنگزیب نے کہاکہ ورکنگ جرنلسٹس کی تکالیف کو دیکھا ہے، جس قانون میں ملازمین کے حقوق کا تحفظ نہ ہو، وہ قانون نامکمل ہوتا ہے،وزیراعظم نے چیئرمین پیمرا کی تقرری کا اختیار پارلیمنٹ کو دینے کی منظوری دی،قائمہ کمیٹی میں کہا کہ دونوں ترامیم بل کا حصہ ہیں،قانون میں بہتری کے لئے ترامیم کی جا سکتی ہیں،2002ءاور 2023ءمیں فرق ہے، بہت کچھ بدل چکا ہے،کراچی پریس کلب میں بل کو بغیر پڑھے اعتراض اٹھایا گیا، لوگوں کی ذہن سازی کی گئی تھی۔
انہوں نے کہاکہ کیا چیئرمین پیمرا سے اختیارات لے کر قانون کالا ہو جاتا ہے، ابھی تو اختیار ایک شخص کے پاس ہے،میڈیا اور صحافیوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں، یہ اپنے حقوق کے بارے میں لڑنا جانتے ہیں،میں نے بل واپس لے لیا تھا،صحافی اور میڈیا ورکرز بل کی افادیت کو سمجھتے ہوئے اس کے حق میں کھڑے ہوئے، پیمرا (ترمیمی) بل 2023ءآج ورکرز کی جانب سے سینیٹ آف پاکستان میں پیش کروں گی،چیئرمین سینیٹ سے اس بل کو دوبارہ سے پیش کرنے کی استدعا کی جائے گی۔









