اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کسی بھی حکومت کے لیے یہ مختصر ترین عرصہ ہے جہاں بے پناہ چیلنجز اور مشکلات کا سامنا تھا اور پچھلی حکومت کا بوجھ بدترین غفلت اور ناکامیوں کی بدولت ہم پر پڑا، 9 مئی کو ریاست اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے خلاف سازش کی گئی، سازش کامیاب ہوتی تو نتائج اتنے بھیانک ہوتے کہ سوچا بھی نہیں جا سکتا۔
قومی اسمبلی کے آخری اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ 11 اپریل 2022 کو قومی اسمبلی کے دائیں اور بائیں طرف بیٹھے ساتھیوں نے مجھ پر اعتماد کیا اور ملک کا وزیراعظم منتخب کروایا۔
وزیراعظم نے کہا کہ انتہائی مشکل حالات میں اتحادی حکومت نے مشکلات کا مقابلہ کیا، بدترین سیلاب کا مقابلہ کیا جس نے صوبہ سندھ کو بدترین نقصان پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا اس کو تار تار کردیا گیا اور پاکستان کے وقار و اعتماد کو شدید چوٹ لگی، گزشتہ حکومت نے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کو بری طرح مجروح کیا جس کی بنا پر پاکستان کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہوگیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ سائفر کے ڈرامے نے تیل پر جلتی کا کام کیا، جس کی وجہ سے امریکا سے تعلقات بری طرح سے متاثر ہوئے، چین کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا جس کی وجہ سے دوستانہ تعلقات متاثر ہوئے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ قرض لے لے کر پوری دنیا کے سامنے ہماری گردن کو دنیا کے سامنے جھکایا گیا اور گزشتہ حکومت نے ملک کے داخلی معاملات پر اس طرح اقدامات اٹھائے کہ جس سے ملک میں زہریلہ پروپیگنڈا پیدا کیا گیا اور ایوان میں موجود ایک دو کو چھوڑ کر سب کو چور اور ڈاکو کہا گیا۔
انہوںنے کہا کہ ہمیں مشکلات کا اندازہ تو تھا لیکن ان کی اتنی گہرائی کا اندازہ نہیں تھا، یوکرین جنگ کی وجہ سے کساد بازاری بڑھی ہوئی تھی اور ہر بار جب پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوتا تھا تو کابینہ میں بحث ہوتی تھی کہ غریب عوام پر یہ بوجھ کیسے ڈالیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ حکومت کے دور میں گندم کی پیداوار میں کمی ہوئی جس کی وجہ سے اربوں روپے خرچ کرکے باہر سے گندم منگوانی پڑی۔
وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ حکومت کے چار سالہ دور میں پوری اپوزیشن کو دیوار سے لگایا گیا، موجودہ حکومت نے 16 ماہ میں کسی کو نہ گرفتار کروایا نہ ہی کسی کے پیچھے نیب کو لگایا۔









