بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پاکستان کے 7نگران وزرائے اعظم، غلام مصطفیٰ جتوئی کانام سرفہرست

اسلام آباد : نگران حکومت کا قیام آئین کی شق 224 کے تحت عمل میں آتا ہے جس کی ذیلی شقوں کے مطابق اگر شق 58 کے تحت اسمبلی تحلیل کر دی جائے تو صدر مملکت ، وزیر اعظم اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے نگران وزیر اعظم کی تعیناتی عمل میں آتی ہے۔ نگران حکومت اپنی نگرانی میں نئے انتخابات کرانے کی ذمہ دار اور نئی حکومت کی تشکیل تک ملکی امور چلانے کی مجاز ہوتی ہے۔

ملکی تاریخ میں 1990ء سے اب تک سات نگران حکومتیں تشکیل پا چکی ہیں۔ نگران وزرائے اعظم کی فہرست میں سب سے پہلا نام غلام مصطفیٰ جتوئی کا ہے۔ انہوں نے بحثیت نگران وزیر اعظم 6 اگست 1990ء کو اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں ان کا تقرر اس وقت کے صدر مملکت غلام اسحق خان نے کیا تھا۔ غلام مصطفی جتوئی نے اپنی ذمہ داریاں 6 نومبر 1990 تک نبھائیں۔

بلخ شیر مزاری دوسرے نگران وزیر اعظم رہے۔ ان کا تقرر بھی سابق صدر غلام اسحاق خان نے اس وقت مسلم لیگ نواز کی حکومت کے خاتمے کے بعد کیا، تاہم سپریم کورٹ نے نواز شریف کی حکومت کو بحال کر دیا جس کے نتیجے میں نگران وزیراعظم بلخ شیر مزاری کو اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا۔ بلخ شیر مزاری 18 اپریل 1993 سے 26 مئی 1993 تک نگران وزیر اعظم رہے، انہیں نگران وزیراعظم کی مسند پر بیٹھنے کے لئے صرف 39 دن میسر آئے۔

معین الدین قریشی 18 جولائی 1993 کو تیسرے وزیر اعظم بنے، ان کا تقرر نواز شریف کی پہلی حکومت کے خاتمے کے بعد عمل میں آیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ان کے پاس قومی شناختی کارڈ نہیں تھا۔ معین الدین احمد قریشی نے بطور نگران وزیراعظم 18 جولائی سے 19 اکتوبر 1993 تک اپنی ذمہ داریاں پوری کیں۔

ملک معراج خالد کو پاکستان کا چوتھا نگران وزیر اعظم بننے کا اعزاز حاصل رہا۔ ان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا،ان کا تقرر بے نظیر بھٹوکی دوسری حکومت کے بعد عمل میں آیا۔ ملک معراج خالد 6 نومبر 1999 سے 17 فروری 1999 تک نگران وزیر اعظم رہے۔

محمد میاں سومرو کو شوکت عزیز کی وزارتِ عظمیٰ کے خاتمے کے بعد نگران وزیر اعظم کے فرائض منصبی سونپے گئے۔ انہیں پانچویں نگران وزیر اعظم کی حیثیت حاصل رہی۔ وہ 16 نومبر 2007 سے 24 مارچ 2008 تک اس عہدے پر رہے، محمد میاں سومرو کو یہ اعزاز حاصل رہا کہ انہوں نے 3 ماہ کے بجائے 4 ماہ 8 دن تک بطور نگران وزیراعظم ذمہ داریاں سنبھا لیں۔

پاکستان کے چھٹے نگران وزیر اعظم کا اعزا ز میر ہزار خان کھوسو کے حصے میں آیا۔ پاکستان میں 2013 کے انتخابات کے نتیجے میں نواز شریف تیسری بار ملک کے وزیر اعظم بنے تو ان کی نگران حکومت کی مدت بھی ختم ہو گئی۔

میر ہزار خان کھوسو 25 مارچ 2013 سے 25 جون تک نگران وزیر اعظم رہے۔ وطن عزیز کے ساتویں نگران وزیراعظم کا قرعہ فال سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ناصر الملک کے نام نکلا ۔

ان کا تقرر نواز لیگ کے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف پیپلز پارٹی کے سید خورشید شاہ کی باہمی مشاورت سے عمل میں آیا۔ سابق چیف جسٹس ناصر الملک 28مئی 2018 سے یکم جون 2018 تک اس عہدے پر فائز رہے۔