بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

وہ لمحہ کب آئے گا جب منتخب وزیراعظم مدت پوری کرے گا؟تجزیہ

اسلام آباد(طارق محمود سمیر) ملکی پارلیمانی تاریخ کی تیسری اسمبلی اپنی پانچ سالہ مدت مکمل کرنے کے بعد تحلیل ہوگئی ہے ، ان تینوں اسمبلیوںکی مدت ضرورمکمل ہوئی لیکن ہر اسمبلی میں قائد ایوان تبدیل ہوتے رہے ،ملکی تاریخ میں وہ لمحہ پتہ نہیںکب آئے گا جب کوئی منتخب وزیراعظم اسمبلی کی جگہ پانچ سالہ اپنی آئینی مدت پوری کرے گا، تحلیل ہونے والی اسمبلی کے انتخابات 25 جولائی 2018کو منعقد ہوئے تھے جن میں تحریک انصاف اکثریتی جماعت کے طور پر ابھرکر سامنے آئی تھی اور عمران خان 22سالہ طویل جدوجہدکے بعد وزیراعظم منتخب ہوئے،انتخابات کے بعد ن لیگ ، پیپلز پارٹی، جے یو آئی اور اے این پی سمیت دیگر جماعتوں نے دھاندلی کے الزامات عائدکئے اور عمران خان کا مینڈیٹ تسلیم کرنے سے انکارکیا، مولانا فضل الرحمان اسمبلی میں بیٹھنے کیلئے تیار نہیں تھے تاہم آصف زرداری اور ن لیگ کی قیادت نے انہیں اسمبلیوں میں بیٹھنے پر آمادہ کیا ، عمران خان بطور وزیراعظم تنازعات کا شکار رہے مگر حکومت کے پہلے دو سال کے عرصے میں انہیں اسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت حاصل تھی اور ایک صفحے پر ہونے کی باتیںکی جاتی تھیں، عمران خان سابق آرمی چیف جنرل(ر) قمر جاوید باجوہ کی ہر موقع پر تعریف کیا کرتے تھے لیکن ان کے درمیان اس وقت اختلافات کھل کر سامنے آئے جب 2021 میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمیدکے تبادلے کے معاملے پر عمران خان نے آرمی چیف کی ایڈوائس ماننے سے انکارکیا اور نوٹیفکیشن روک لیا جس پر سابق وزیراعظم اور سابق آرمی چیف میں دوریاں پیدا ہوئیں ، اسی وقت یہ فیصلہ ہوچکا تھا کہ عمران خان اب مزید اقتدار میں نہیں رہ سکتے اور اسی اثناء میں پی ڈی ایم کا اتحاد متحرک ہوا اور عمران خان کے خلاف پی ڈی ایم نے عدم اعتمادکی تحریک جمع کرادی تو امریکی سائفرکو عمران خان نے حکومت بچانے کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کی اور ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے رولنگ دے کر تحریک عدم اعتمادکو غیر قانونی قراردے دیاصدر علوی نے اسمبلی توڑ دی معاملہ سپریم کورٹ میں چلا گیا اور سپریم کورٹ نے اسمبلی بحال کردی اور ووٹنگ کے نتیجے میں عمران خان اقتدار سے محروم ہوگئے اور شہبازشریف کو اتحادی جماعتوں نے وزیراعظم منتخب کر لیا ، اپنی مدت مکمل کرنے والی یہ تیسری اسمبلی ہے جس میں دو وزرائے اعظم عمران خان اور شہبازشریف منتخب ہوئے جبکہ 2013سے 2018میں بننے والی اسمبلی سے میاں نوازشریف پہلے وزیراعظم منتخب ہوئے جنہیں سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا جس کے بعد شاہد خاقان عباسی کو وزیراعظم بنایا گیا اسی طرح 2008سے2013تک مدت مکمل کرنے والی پہلی اسمبلی میں بھی دو وزیراعظم منتخب ہوئے پہلے مرحلے میں یوسف رضا گیلانی وزیراعظم بنے جنہیں سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کی پاداش میں سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا تو باقی مدت کیلئے راجہ پرویز اشرف کو وزیراعظم منتخب کیا گیا، پی ڈی ایم حکومت کو معاشی بحران کا سامنا رہا ،آئی ایم ایف سے معاہدہ بہت مشکل سے ہوا، مہنگائی 28فیصد تک پہنچی لیکن 9 مئی کو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے اپنی گرفتاری پر فوجی تنصیبات پر حملہ کرانے کی جو سنگین غلطی ہوئی اس نے ملکی سیاست کا نقشہ ہی تبدیل کرکے رکھ دیا ہے ، اب تو عمران خان توشہ خانہ کیس کی وجہ سے اٹک جیل میں ہیں ، تحریک انصاف میں سے دو سیاسی جماعتیں جنم لے چکی ہیں جبکہ بڑی تعداد میں رہنما پارٹی چھوڑ کر دیگر جماعتوں میں شامل ہورہے ہیں ، 9 مئی کوگرفتاری پر تو بڑا احتجاج ہوا لیکن 5 اگست کو ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت سے عمران خان کو سزا ہونے پر تحریک انصاف کے کارکن کہیں بھی سڑکوں پر نظر نہیں آئے البتہ سوشل میڈیا پر خوب احتجاجی مہم چلائی گئی ، نگران حکومت کی تشکیل کا مرحلہ ابھی باقی ہے اور آئندہ چند روز میں صورتحال مکمل طور پر واضح ہوجائے گی ، کبھی حفیظ شیخ فیورٹ بن جاتے ہیں توکبھی جلیل عباس جیلانی کا نام نگران وزرائے اعظم کی فہرست میں پہلے نمبر پر آجاتا ہے ، حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہو پا رہا کہ کون نگران وزیراعظم بنے گا البتہ جو بھی نگران وزیراعظم بنے گا اس نے ملکی معیشت کو مستحکم بنانا اور آئی ایم ایف سمیت دیگر عالمی اداروں کے ساتھ ہونے والے معاہدوںکی پاسداری کو بھی یقینی بنانا ہے اور نگران حکومت کے کندھوں پر اس کے علاوہ دوسری بھاری ذمہ داری نئی مردم شماری کے تحت حلقہ بندیاں ہونے کے بعد ملک میں عام انتخابات کا انعقاد کرانا ہے ،انتخابات کے معاملے پر مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ بروقت نہیں ہوں گے ،یہ قیاس آرائیاں اس وقت تک ہوتی رہیں گی جب تک انتخابات کا عمل شروع نہیں ہوتا ۔