بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پی ڈی ایم سرکار کی رخصتی اور پاکستان تحریک انصاف کا “یومِ تشکر و نجات”

اسلام آباد(ممتازنیوز)پی ڈی ایم سرکار کی رخصتی اور پاکستان تحریک انصاف کا “یومِ تشکر و نجات”، تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے پی ڈی ایم کے ڈیڑھ سالہ دور کا ایک مختصر جائزہ پیش کر دیا۔ترجمان تحریک انصاف نے کہا ہے کہ آج پوری قوم مجرموں سے نجات پر اللہ کا شکر ادا کرتی ہے۔مجرموں کے اس گروہ نے ڈیڑھ سالہ دور میں بدترین حکومت کی اور سیاسی انتقام کی سیاہ ترین مثالیں قائم کیں۔آئین سے انحراف کرتے ہوئے خیبرپختونخوا پنجاب میں انتخابات نہ ہوئے، آئین کو مکمل نظر انداز کیا گیا۔سپریم کورٹ اور اعلیٰ عدالتوں کی حیثیت کو مسمار کیا گیا۔الیکشن کمیشن اور بیوروکریسی سمیت تمام اداروں کو اس حد تک سیاسی کر دیا کہ عوام کا ان سے اعتماد اٹھ گیا۔17 ہزار سیاسی کارکنوں کو گرفتار اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ انہوںنے کہا کہ پی ڈی ایم حکومت نے سازش کے تحت ایک منتخب جمہوری حکومت کو گرا کر اس ڈیڑھ سال میں 6 فیصد کی سالانہ شرح سے ترقی کرتی معیشت کا بیڑہ غرق کیا۔پی ڈی ایم نے قوم کو تاریخ کی بلند ترین مہنگائی کے بوجھ کے ذریعے اپنی نا اہلی اور پے درپے حماقتوں کی بھینٹ چڑھایا۔پٹرول ، بجلی سمیت اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں تاریخی اضافے سے عوام کی کمر توڑ دی۔38 فیصد شرح مہنگائی کی وجہ سے 24 سے 25 فیصد مزید آبادی خط غربت سے نیچے جا چکی ہے۔شرح نمو 6 فیصد سے گر کرمنفی ہو گئی ، صنعتیں بند ہوتی گئیں اور 2 کروڑ سے زائد لوگ بے روزگار ہوئے۔پی ڈی ایم نے ملکی قرض میں تاریخی اضافہ کیا جبکہ آمدن نہ ہونے کے برابر رہ گئی۔ملک کو دیوالیہ ہونے سے نکالنے کا بیانیہ بنانے والے 13 جماعتوں پر مشتمل حکومتی اتحاد نے تاریخ کی سب سے بڑی کابینہ کا ریکارڈ اپنے نام کیا۔

ترجمان پی ٹی آئی نے کہا کہ اقتدار پر قابض رہنے کیلئے ہر قسم کی دستور و قانون شکنی کا رستہ اختیار کیا اورملک میں قانون کی حکمرانی کو عملی طور پر ختم کر دیا۔تحریک انصاف اور اس کے حامیوں کو ایک منظم، مسلسل اور ریاستی سرپرستی میں چلائی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مہم کا نشانہ بنایا گیا۔سیاسی مخالفین کو غیر قانونی گرفتاریوں، رہائشگاہوں پر چھاپوں اور زیر حراست تشددکا نشانہ بنایا گیا۔چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے خواتین اور بچوں کے خلاف بدترین ریاستی جبر کی مثال قائم کی۔پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان سمیت پارٹی کی سینئر قیادت پر بغاوت اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت ہزاروں جھوٹے مقدمات درج کیے گیے۔ملک کے سابق وزیر اعظم پر قاتلانہ حملہ ہوا لیکن ان کو مقدمے کے اندراج تک کے آئینی حق سے محروم کر دیا گیا۔سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کو 9 مئی کو غیر قانونی طور پر عدالتی احاطے سے اغوا کیا گیا جس کی آڑ میں پوری جماعت اور حامیوں کے خلاف ایک فسطائی مہم کا آغاز کیا گیا۔چئیرمین پی ٹی آئی کو منصفانہ ٹرائل کے حق سے محروم رکھ کر ایک متنازعہ فیصلے کے نتیجے میں گرفتار کرنے کے بعد جیل مینوئل میں تفویض کردہ حقوق سے بھی محروم کر دیا گیا،سیاسی کارکنان کے علاوہ قانونی برادری کو بھی آئین و قانون کی پاسداری کی بات کرنے کی سزا دی گئی۔انہوں نے مزید کہا کہ محض اختلاف رائے کی بنیاد پر سیاسی و غیر سیاسی مخالفین کو کئی کئی روز تک حبسِ بے جا میں رکھا گیا۔پی ڈی ایم سرکار نے بدترین انتقام کے دائرے کو وسیع کرتے ہوئے حکمران اتحاد پر تنقید کرنے والے غیر جانبدار صحافیوں کوبھی نہایت بے رحمی سے نشانہ بنایا۔متعدد صحافیوں پر حملے کیے گئے ، انہیں اغوا کیاگیا اور دھمکی آمیز فون کالز کے ساتھ ان کے گھروں پر چھاپے مارے گئے ، جلا وطنی پر مجبور کیا گیا۔پاکستان کے مایہ ناز تحقیقاتی صحافی ارشد شریف کو کینیا جلا وطنی پر مجبور کیا گیا جہاں انہیں نہایت بے رحمی سے قتل کیا گیا۔پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور جماعت کو بدنام کرنے کیلئے ریاستی وسائل کےذریعے الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر نہایت گمراہ کن اور مسخ شدہ حقائق پر مبنی پراپیگینڈہ کیا جاتا رہا ۔

ان کا کہنا تھا کہ پیسے اور طاقت کے استعمال سے اقتدار کے حصول میں کامیاب ہونے کے بعد کٹھ پتلی سرکار نے اپنے حقیقی مقاصد کے حصول کیلئے ایک کے بعد ایک ادارے کو تباہ کیا۔شریف خاندان نے ایف آئی اے کا بھرپور استحصال کرتے ہوئے اپنے اور اپنے خاندان کے منی لانڈرنگ ریفرنس ختم کروائے۔چوروں کے گروہ نے ازخود نیب قوانین میں ترمیم کر کے این آر او ٹو حاصل کیا اور قوم کا 1100 ارب کا نقصان کیا۔الیکشن کمیشن میں کٹھ پتلی ارکان کی تعیناتی کر کے ادارے کو مسلسل تحریک انصاف کے خلاف انتقامی آلہ کار کے طور پر استعمال کیا۔الیکشن کمیشن نے اپنے آقاؤں کی ایما پر ہر قدم پر الیکشن منعقد کروانے کی آئینی ذمہ داری سے انحراف کیا اور قوم کو ووٹ کے آئینی حق سے محروم کی۔الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کے ذریعے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا خاتمہ کر کے انتخابی عمل کی شفافیت کے رتی بھر امکان کو بھی ختم کر دیا۔دو صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کے جمہوری عمل میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے بعد 90 روز کی آئینی مدت میں انتخاب سے بچنے کے جواز تراشے گئے۔حکومت عدالتِ عظمیٰ کے احکامات کو پیروں تلے روندتے ہوئے 14 مئی کو پنجاب میں عام انتخابات نہ کروا کر آئین سے انحراف کی مرتکب ہوئی۔الیکشن سمیت ہر آئینی عمل سے بچنے کیلئے ہر موقع پر عدلیہ پر منظم یلغار کی گئی۔متنازعہ افراد پر مشتمل نگران حکومتوں کی تعیناتی کے بعد ان کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا۔ملک کی خارجہ پالیسی کو اپنے بیرونی آقاؤں کی ڈکٹیشن کے مطابق ڈھالنے کے بعد حکومت عالمی برادری میں ذلت و رسوائی کا شکار ہوئی۔وزیر اعظم اور زیر خارجہ کے بیرونی دوروں پر اربوں روپے خرچ کرنے کے باجود پاکستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہوا۔بارہا نشاندہی کے باوجود حکومت نے امنِ عامہ کی صورتحال پر توجہ نہ دی جس سے دہشت گردی بدستور بڑھتی گئی۔ماہرین کے مطابق سال 2022 میں دہشت گردی میں تقریباً 120 فیصد تک اضافہ ہوا ۔پی ڈی ایم حکومت میں معاشی و قومی سلامتی کے میدان میں عدم استحکام کے خطرات میں کمی کی بجائے مسلسل اضافہ ہوتا رہا،۔بالآخر نا اہلی ، نالائقی اور فسطائیت پر مبنی ڈیڑھ سالہ سیاہ دور آج اپنے اختتام کو پہنچا۔وقت آ گیا ہے کہ قوم کو شفاف الیکشن کے ذریعے اپنے نمائندے منتخب کرنے کا آئینی اختیار دیا جائے۔