اسلام آباد(طارق محمود سمیر)چیئرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی طرف سے تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد عوامی جلسے میں لہرائے جانے والےخفیہ سائفر سے متعلق عالمی میڈیا میں ایک مرتبہ پھر چرچہ شروع ہوگیا ہے اور یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ عمران خان کو اقتدار سے ہٹانے میں امریکی سازش کارفرما ہے،انٹرنیشنل میڈیا میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس سائفر میں جو زبان امریکی سفارتکار نے پاکستانی سفیر سے ملاقات میں استعمال کی عموماً سفارتکاری کے عمل میں اس طرح کا لب ولہجہ استعمال نہیںکیا جاتا، مارچ2022سے پاکستانی سیاست میں سائفر نے ہلچل مچا رکھی ہے اور پی ڈی ایم نے جب عمران خان کو وزارت عظمیٰ سے ہٹانے کیلئے تحریک عدم اعتماد جمع کرائی تو یہ سائفر 27 مارچ کو پریڈگرائونڈکے جلسے میں عمران خان نے بطور وزیراعظم لہرایا اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس خفیہ مراسلے میں جو لکھا گیا ہے وہ ان کیخلاف غیر ملکی سازش ہے تو پاکستانی میڈیا میں ایک طوفان مچ گیا ، فوری طور پر نیشنل سکیورٹی کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا جس میں قومی سلامتی کے اداروں نے اپنی رپورٹ پیش کی اور اس رپورٹ میںکہا گیا کہ حکومت کو ہٹانے کیلئے کوئی غیر ملکی سازش نہیں ہوئی، نیشنل سکیورٹی کمیٹی کی ہدایت پر دفتر خارجہ نے امریکی سفارتخانے کے سینئر حکام کو طلب کر کے احتجاج کیا تھا تاہم جب 9 اپریل 2022کو تحریک عدم اعتمادکی کامیابی کے بعد شہبازشریف وزیراعظم منتخب ہوگئے تو نیشنل سکیورٹی کمیٹی کا دوبارہ اجلاس بلایا گیا اور اس اجلاس کے اعلامیے میں واضح طور پر لکھا گیا کہ عمران خان کو ہٹانے کیلئے کوئی غیر ملکی سازش نہیں ہوئی مگر عمران خان تسلسل سے ایک بیانیہ بناتے رہے جس میں انہوں نے اینٹی امریکہ اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ موقف اپنایا جس سے انہیں عوام میں مقبولیت ملی ۔انہوں نے سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کو شدید تنقیدکا نشانہ بنایا اور انہیں میر جعفر اور میر صادق تک کہہ دیا تاہم ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد عمران خان نے اپنے کئی انٹرویوز اور تقاریر میں یوٹرن لیا اور اپنے موقف سے پیچھے ہٹنا شروع کردیا اور یہ کہہ دیا کہ ان کی حکومت ہٹانے میںکوئی امریکی سازش نہیں ہوئی تھی بلکہ یہ سازش سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ نے کی اور اس سازش کے کرداروںکے طور پر عمران خان نے سابق سفیر حسین حقانی اور پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی کو ذمہ دار قراردیا ۔دوسری جانب حکومت نے سائفرکی ایف آئی اے سے تحقیقات کرانا شروع کردیں اور اسی اثناء میںکچھ مبینہ آڈیوز بھی لیک ہوئیں، ایک آڈیو لیک میں واضح طور پر سنا گیا کہ عمران خان اپنے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان سے گفتگوکرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ یہ سائفر آیا ہے ہم نے اس کو استعمال کرنا ہے اورکھیلنا ہے ،اپنا بیانیہ بنانا ہے لیکن ملک کا نام نہیں لینا، اس مبینہ آڈیوکے منظر عام پر آنے کے بعد ایف آئی اے نے تحقیقات کا عمل تیزکیا اور اب تک ایف آئی اے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، سابق وفاقی وزیر اسد عمر اور اعظم خان کے بیانات ریکارڈکر چکی ہے جبکہ سابق وزیراعظم عمران خان بھی ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوکر اپنا بیان دے چکے ہیں ۔دوسری جانب وزیراعظم شہبازشریف نے عالمی میڈیا میں سائفر آنے کے بعد اپنے ردعمل میںکہا ہے کہ اگر امریکی سازش کے ذریعے وہ اقتدار میں آئے ہوتے تو ان کے لئے ڈوب مرنے کا مقام ہوتا ہے، حقیقت میں ایسا نہیں ہے، نیشنل سکیورٹی کمیٹی میں ساری صورتحال کا جائزہ لیا گیا تھا اور قومی سلامتی کے اداروں نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا تھا کہ کوئی غیر ملکی سازش نہیں ہوئی جبکہ عمران خان بھی سائفرکے معاملے میں بار بار موقف بدلتے رہے ۔علاوہ ازیں نگران وزیراعظم کی تشکیل کا معاملہ 15اگست تک حل ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا، قائد حزب اختلاف راجہ ریاض کی بالآخر وزیراعظم شہبازشریف سے ملاقات ہوگئی ہے ، ایک گھنٹہ کی ملاقات میں راجہ ریاض نے تحریری طور پرکوئی نام لکھ کر وزیراعظم شہبازشریف کے حوالے نہیںکیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے زبانی تین نام نگران وزیراعظم کیلئے شہبازشریف کو دیے اور اس حوالے سے مشاورت کی ، اب بعض ذرائع نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو فیورٹ امیدوار قراردینا شروع کردیا ہے ، وزیراعظم شہبازشریف سے صادق سنجرانی کی ملاقات بھی ہوئی ہے جس کی باقاعدہ خبر وزیراعظم ہائوس سے جاری کی گئی ہے ،اس خبر کے مطابق چیئرمین سینیٹ نے وزیراعظم کو 15ماہ اتحادی حکومت کی شاندار قیادت اور ملکی معیشت کو مستحکم کرنے پر خراج تحسین پیش کیا ، چیئرمین سینیٹ سے ملاقات میں وزیراعظم بہت خوشگوار موڈ میں نظرآرہے تھے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ راجہ ریاض کی ملاقات کے بعد وزیراعظم شہبازشریف نے میاں نوازشریف اور پارٹی کے بعض سینئر رہنمائوں سے غیر رسمی مشاورت کی ہے، بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اور راجہ ریاض کے درمیان اتفاق رائے نہ ہونے پر اتوارکو قومی اسمبلی کے سپیکر پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیں گے جس میں حکومت اور اپوزیشن سے چار چار نمائندے شامل ہوں گے اور یہ کمیٹی تین دن تک نگران وزرائے اعظم کی فہرست کا جائزہ لے گی، تحریری طور پر چھ نام وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کی طرف سے کمیٹی کو بھجوائے جائیں گے ، پارلیمانی کمیٹی میں اتفاق رائے نہ ہونے پر یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس چلا جائے گا اور الیکشن کمیشن 15یا 16اگست کو اپنے اجلاس میں نگران وزیراعظم کا حتمی فیصلہ کرے گا۔
ملاقات معنی خیز
حکومت جاتے ہی سائفر کامعاملہ ایک بارپھراٹھ گیا








