اسلام آباد(طارق محمود سمیر)نامزد نگران وزیراعظم سینیٹر انوار الحق کاکڑ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے تیسرے وزیراعظم ہوں گے اور بلوچستان کو ایک نیا اعزاز
بھی ملا ہے کہ دو نگران وزرائے اعظم کا تعلق بھی اسے صوبے سے ہے، سینیٹر انوار الحق کاکڑکی تین دن قبل راولپنڈی میں ملک کی اہم ترین شخصیت سے تین گھنٹے کی ملاقات ہوئی جس میں انہیں نگران وزیراعظم بنانے کے معاملے پر غورکیا گیا اور آج آئین اور قانون کا تقاضا پورا کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف اور قائد حزب اختلاف راجہ ریاض نے متفقہ طور پر نگران وزیراعظم بنانے کا اعلان کیا اور ایڈوائس پر دستخط کئے اور راجہ ریاض کا دعویٰ اور پیشگوئی سو فیصد درست ثابت ہوئی کہ نگران وزیراعظم کے لئے جو نام وہ دیں گے وہی نگران وزیراعظم بنے گا ۔ان کی یہ بات اس لئے بھی درست ثابت ہونے کی پیشگوئیاں کی جارہی تھیں کہ راجہ ریاض کو اہم شخصیت کی جانب سے جس نام کے بارے میں بتایا جائے گا وہی نام وہ وزیراعظم شہبازشریف کو پیش کریںگے ۔سیاسی زندگی میںکافی نشیب و فراز دیکھنے والے انوار الحق کاکڑ بڑے خوش قسمت سیاستدان ہیں ۔بلوچستان عوامی پارٹی کی تشکیل سے قبل وہ مسلم لیگ (ق) کا باقاعدہ حصہ رہے اور مسلم لیگ (ق) بلوچستان کے ترجمان کے طور پر فرائض انجام دیتے رہے ۔ 2008میں مسلم لیگ(ق) کے ٹکٹ پر کوئٹہ کی نشست سے ایم این اے کا الیکشن بھی لڑا جس میں وہ کامیاب نہ ہو سکے ،2013کے عام انتخابات کے بعد جب بلوچستان میں ڈاکٹر عبدالمالک کو ن لیگ کی حمایت سے وزیراعلیٰ بنایا گیا تو نامزد وزیراعظم سینیٹر انوار الحق کاکڑ نواب ثناء اللہ زہری کے بہت قریب ہوئے گئے جون لیگ کے صوبائی صدر تھے ۔ڈاکٹر عبدالمالک کے بعد جب ن لیگ نے نواب ثناء اللہ زہری کو وزیراعلیٰ بنایا تو انوار الحق کاکڑ ان کے ترجمان بن گئے اور میڈیا میں حکومت اور قومی اداروںکا موقف ڈٹ کر بیان کرتے رہے ۔ 2018 میں جب عبدالقدوس بزنجو اور ان کے ساتھیوں نے بغاوت کی اور نواب ثناء اللہ زہری کو ہٹا کر بلوچستان عوامی پارٹی تشکیل دی اور عبدالقدوس بزنجوکو وزیراعلیٰ بنایا گیا تو اس وقت انوار الحق کاکڑکو باپ پارٹی کا مرکزی ترجمان بنایا گیا ۔ سینیٹر منتخب ہونے کے بعد وہ سینیٹ کے چیئرمین کے امیدوار بھی تھے لیکن اس وقت چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل(ر) فیض حمیدکی مکمل حمایت حاصل تھی اور صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ بنوانے میں آصف زرداری اور عمران خان نے بھی ساتھ دیا ۔اس وقت بلوچستان اسمبلی میں ن لیگ کی اکثریت تھی اور آصف زرداری نے فخریہ انداز میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ بلوچستان سے میں نے ن لیگ کو ختم کر دیا ہے اور باپ پارٹی کے لوگ میرے بچے ہیں ۔ جب عبدالقدوس بزنجو وزیراعلیٰ بنے تو چیئرمین سینیٹ سمیت باپ پارٹی کے تمام ارکان آصف زرداری سے ملاقات کرنے کراچی گئے، چند ماہ قبل باپ پارٹی کے تین رہنما جب پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے تو آصف زرداری کی یہ خواہش تھی کہ باپ پارٹی کے اصل باپ تمام رہنمائوںکو پیپلزپارٹی میں آنے دیں گے لیکن اچانک بریکیں لگ گئیں اور باپ پارٹی سے مزیدکسی رہنما نے پیپلزپارٹی میں شامل ہونے سے انکارکر دیا اوروزیراعلیٰ قدوس بزنجو نے آصف زرداری کو خط لکھ دیا کہ وہ باپ پارٹی نہیں چھوڑیں گے، 2018کے بعد جب تحریک انصاف کے چیئرمین وزیراعظم بنے تو باپ پارٹی کی قیادت نے انوار الحق کاکڑکا نام وفاقی کابینہ کے لئے نہیں دیا اور سابق وزیراعلیٰ جام کمال نے انوار الحق کاکڑکو صوبائی حکومت کا ترجمان مقررکر دیااور وہ عبدالقدوس بزنجو کے وزیراعلیٰ بننے تک صوبائی حکومت کے ترجمان رہے ۔ باپ پارٹی میں جب اختلافات پیدا ہوئے تو انوار الحق کاکڑکو سینیٹ میں پارلیمانی لیڈرکے عہدے سے ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ منظورکاکڑکو سینیٹ میں باپ پارٹی کا پارلیمانی لیڈر مقررکیا گیا ۔ چند ہفتے قبل انوار الحق کاکڑ کی مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز سے بھی ملاقات ہوئی تھی اور یہ ملاقات جام کمال نے کرائی تھی اور اس ملاقات میں جام کمال اور نامزد وزیراعظم کی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت پر بات چیت ہوئی اور یہ اصولی فیصلہ ہوا کہ انتخابات سے قبل جام کمال اور وہ ن لیگ میں شامل ہو جائیں گے ۔ موجودہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے جب گزشتہ سال 29نومبرکو جی ایچ کیو میں ایک تقریب میں پاک فوج کی کمانڈ سنبھالی تھی تو اس تقریب میں بھی انوار الحق کاکڑکو خصوصی دعوت پر بلایا گیا تھا اور ذمہ داری سنبھالنے کے بعد آرمی چیف اور انوار الحق کاکڑ نے خوشگوار انداز میں مصافحہ بھی کیا تھا، اس موقع پر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے دیگر اہم سیاسی رہنما بھی موجود تھے ۔ نامزد وزیراعظم کا نام اب تک میڈیا میں نہیں آیا تھا اور اسے خفیہ رکھا گیا تھا اور اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض نے بھی اپنے قریبی دوستوں کے بار بار پوچھنے کے باوجود بھی انوار الحق کاکڑکا نام ظاہر نہیں کیا تھا ، تین دن قبل جب نامزد وزیراعظم کی اہم شخصیت سے تفصیلی ملاقات ہوئی تھی اس کے بعد گزشتہ روز راجہ ریاض کو باضابطہ طور پر بتا دیا گیا تھا کہ انہوں نے وزیراعظم شہبازشریف کو انوار الحق کا کڑکا نام پیش کرنا ہے اورانہوں نے ایسا ہی کیا۔ سوچنے کی بات ہے کہ فواد چوہدری بہت تعریفیں کر رہے ہیں اور نامزد وزیراعظم کو ایک پڑھا لکھا سیاستدان قرار دے رہے ہیں اور ان سے اچھی توقعات بھی ظاہر کر رہے ہیں جبکہ شاہ محمود قریشی نے بھی نامزد وزیراعظم کی تعریف کی ہے اور انہیں اچھا انسان قرار دیا ہے ۔ نامزد وزیراعظم حلف اٹھانے کے بعد اپنا کیا ایجنڈا دیتے ہیںکیسی کابینہ بناتے ہیں ملک کو معاشی بحران سے نکالنے میں کیا پالیسی اپنائیں گے اس کا اندازہ آئندہ چند روز میں ہوگا تاہم یہ پہلے بااختیار نگران وزیراعظم ہوں گے اور انہیں بااختیار بنانے کے لئے پی ڈی ایم حکومت نے الیکشن ایکٹ 2017کی شق 230میں ترمیم کی تھی جس کے تحت عالمی مالیاتی اداروں سے معاہدوںکا اختیار دیا گیا تھا جبکہ اس سے پہلے جتنے بھی نگران وزیراعظم بنے انہیں محدود اختیارات حاصل تھے ۔ الیکشن ایکٹ 2017میں ترمیم اس لئے کی گئی تھی کہ سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار بھی مضبوط امیدوار تھے لیکن کچھ حلقے آئی ایم ایف کے معاملے میں اسحاق ڈارکے کردار اورکارکردگی سے مطمئن نہیں تھے کیونکہ اسحاق ڈارکے رویے اور متنازعہ بیانات سے آئی ایم ایف ناراض ہو گیا تھا اور وزیراعظم شہبازشریف کو بالآخرمیدان میں آنا پڑا اور آئی ایم ایف سے معاملات طے کئے۔ انوار الحق کاکڑ سے پہلے میر ظفر اللہ خان جمالی 2002 میں ق لیگ کی طرف سے وزیراعظم منتخب ہوئے تھے اور وہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پہلے وزیراعظم تھے اور ان کی حکومت تقریباً20ماہ قائم رہے اور سابق صدر پرویز مشرف سے اختلافات کے بعد استعفیٰ دے دیاتھا ۔ 2013کے انتخابات سے قبل بلوچستان سے ہی تعلق رکھنے والے جسٹس ریٹائرڈ میر ہزار خان کھوسو کو نگران وزیراعظم بنایا گیا تھا اس طرح بلوچستان سے اب تک تین وزرائے اعظم بنے ہیں جن میں سے ایک منتخب اور دو نگران ہیں ۔اب سینیٹر انوار الحق کاکڑکی نگران وزیراعظم کی نامزدگی پر پیپلزپارٹی کے رہنمائوں کے اعتراض کی خبریں سامنے آئیں تاہم بعد میں تردیدکردی گئی۔سید خورشید شاہ نے نگران وزیراعظم کومبارکباد دی اورکہا امیدہے آئین کے مطابق ذمہ داریاں ادا کریں گے۔پیپلزپارٹی کی رہنما شازیہ مری اورفیصل کریم کنڈی نے بھی کہا ہم نے اختیار وزیراعظم کو دیاتھا ، ہم نے انوارالحق کاکڑکی مخالفت نہیںکی تھی۔
تجزیہ
انوارالحق کاکڑ 3دن پہلے اہم شخصیت سےملے تھے








