بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بھارت میں لینڈنگ سلائیڈنگ سے مندر تباہ اور کالج بہہ گیا؛21 ہلاکتیں

نئی دہلی: بھارتی ریاست ہماچل پردیش میں مون سون بارشوں اور طوفان کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 257 ہوگئی جب کہ متعدد زخمی ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی ریاست ہماچل پردیش میں موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی۔ 24 گھنٹوں کے اندر دو الگ الگ واقعات میں مجموعی طور پر 21 افراد ہلاک ہوگئے۔

ادھر اتراکھنڈ میں مسلسل بارشوں اور سیلاب کے باعث ایک کالج کی عمارت گر کر سیلابی ریلے میں بہہ گئی۔

 

ہماچل میں مون سون بارشوں کے دوران قدرتی آفات کا پہلا واقعہ سولن ضلع میں پیش آیا جہاں بادل کے پھٹنے (Cloud Burst) کے واقعے میں 9 افراد ہلاک ہوگئے جب کہ دوسرے واقعے میں مٹی کا بڑا تودہ ایک مندر پر گرگیا۔

لینڈ سلائیڈنگ میں شیو مندر مکمل طور پر تباہ ہوگیا اور ملبے تلے دب کر 11 افراد ہلاک ہوگئے۔ لینڈ سلائیڈنگ کے ایک اور واقعے میں 20 افراد ملبے تلے دب گئے تاہم ہلاکتوں کی کوئی اطلاع نہیں۔

یاد رہے کہ ہماچل پردیش سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ملک کی سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ریاست ہے۔ 24 جون سے شروع ہونے والی مون سون بارشوں میں اب تک 257 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

جن میں صرف لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں 66 جب کہ دیگر واقعات میں 191 افراد ہلاک ہوئے۔ 32 لوگ لاپتا ہیں اور 290 لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ 1,376 مکانات مکمل طور پر تباہ اور 7,935 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا۔

بھارتی محکمۂ موسمیات نے پیشن گوئی کی ہے کہ جنوب مغربی بحیرہ عرب کی مون سونی ہوائیں ہمالیہ کے دامن سے ٹکرا رہی ہیں اس لیے ریاست ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ میں شدید بارشوں کا سلسلہ چند روز اور جاری رہے گا۔