بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سیکیورٹی کے نام پر سی سی ٹی وی کیمرے لگا کرباتھ روم تک پہنچ دینا غیر قانونی اور غیر اخلاقی حرکت، تجزیہ

اسلام آباد(طارق محمود سمیر) پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سیاسی رہنمائوںکے ساتھ جیلوں میں جو سلوک کیا جاتا رہا ہے۔اس حوالے سے ہماری تاریخ کی مثالیں اچھی نہیں ہیں، ہر حکمران قانون کی بالادستی کے نام پراپنے سیاسی مخالفین کو جیلوں اور عقوبت خانوںمیں قیدکراتا ہے اورسیکیورٹی کے نام پر سی سی ٹی وی کیمرے ایسے انداز میں لگائے جاتے ہیںکہ قیدی کے بنیادی حقوق نہ صرف متاثر ہوتے ہیں بلکہ اخلاقی اور معاشرتی روایات کو بھی پامال کیا جاتا ہے جس کی تازہ مثال سابق وزیراعظم عمران خان کی شکایت ہے جس کی تصدیق ایک ایڈیشنل سیشن جج نے بھی کر دی ہے اور نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی سمیت دیگر حکومتی شخصیات نے شکایت کا ازالہ کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی بھی سیاسی رہنما کو جب گرفتارکرکے تفتیش کے لئے نیب کا یا ایف آئی اے کا عقوبت خانہ ہو وہاں جو سلوک کیا جاتا ہے کیا قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔سیکیورٹی کے نام پر سی سی ٹی وی کیمرے لگا کرکیمروںکی پہنچ باتھ روم تک دینا غیر قانونی اور غیر اخلاقی حرکت ہے، کاش عمران خان اپنے دور حکومت میں بھی ایسی شکایات کا بروقت نوٹس لیتے ،بہرحال اگر ماضی میں کوئی غلط کام ہوا ہے تو موجودہ دور میں بھی اسی طرح کا کام ہونا درست عمل نہیں ہے ۔عمران خان کی شکایت پر اپنے ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے (ن) لیگ کے سینئر رہنما سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے ٹویٹ میںکہا کہ عمران خان نے جیل میںکیمروںکی تنصیب پر شدید اعتراض کیا ہے ، آج سے دو ڈھائی سال قبل جب میں کوٹ لکھپت جیل میں عمران خان کی فرمائش پر قید تھا تو میں اپنی بیرک کے روزانہ کیمرے گنتا تھا تو بھول جاتا تھا، میں چھ سیل کی بیرک میں اکیلا قیدی تھا اور یہ کیمرے عمران خان کی فرمائش پر لگے تھے ، اللہ سے ہر وقت معافی مانگنی چاہئے، وقت سدا ایک جیسا نہیں رہتا۔عمران خان کے دور حکومت میں ہی سابق وزیراعظم اور (ن) لیگ کے صدر میاں شہبازشریف ، خواجہ سعد رفیق ،خواجہ سلمان رفیق ، فواد حسن فواد ، احد چیمہ اور دیگر رہنما جب گرفتار ہوئے اور انہیں نیب لاہورکے عقوبت خانے میں رکھا گیا تو وہاں بھی اسی طرح کے کیمرے لگائے گئے تھے جس طرح کے اٹک جیل میں لگائے ہیں جب یہ معاملہ قومی اسمبلی اور میڈیا میں آیا تواس وقت کے وزراء نے یہ موقف اختیارکیا کہ سیکیورٹی کے لئے یہ کیمرے لگائے گئے ہیں اور سابق ڈی جی نیب لاہور میجر ریٹائرڈ سلیم شہزاد جو خود بھی طیبہ گل سیکنڈل میں مبینہ طور پر ملوث ہیں نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ نیب نے کیمرے لگائے تھے اور ان کا مقصدگرفتار سیاسی رہنمائوں سے ملاقاتیوں کی مانیٹرنگ کرنااور سیکیورٹی کو یقینی بنانا تھا۔ بعد ازاں ان کیمروںکا رخ بھی تبدیل کر دیا گیا تھا اور یہ کیمرے بھی باتھ روم تک جاتے تھے اور جو بھی قیدی باتھ روم جاتا تھا اس کی پرائیویسی متاثر ہوتی تھی ۔اس وقت کیمرے نصب کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیںکی گئی تھی اور اب بھی نہیں لگتا کہ ایسا ہوگا بہرحال اگرکسی ایک دور حکومت غلط روایت قائم کی گئی ہے تو دوسرے دور حکومت میں اسے دہرانا مناسب نہیں ہے۔ علاوہ ازیں توشہ خانہ کیس کی سماعت ہائیکورٹ میں ایک مرتبہ پھر 24اگست تک ملتوی کر دی گئی ہے ۔عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے اپنے دلائل کے ذریعے پوری کوشش کی کہ چیف جسٹس ہائیکورٹ عامر فاروق آج ہی کوئی فیصلہ دیں ، پہلے چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز سے پوچھا تو انہوں نے موقف اختیارکیا کہ انہیں تیاری کے لئے دو ہفتے چاہئیں ، لطیف کھوسہ کے احتجاج اور اعتراضات پر چیف جسٹس نے دو ہفتے کی بجائے سماعت دو دن کے لئے ملتوی کی ۔علاوہ ازیں بٹگرام میں نجی کیبل کار (ڈولی)کے ذریعے سکول جانے والے بچے اور ایک استاد رسہ ٹوٹنے کے باعث پھنس گئے تھے اور یہ سلسلہ صبح سویرے شروع ہوا اور رات گئے تک پاک فوج کے کمانڈوز اور ریسکیو حکام کوششیں کرتے رہے، ہیلی کاپٹرز کا بھی استعمال کیا گیا ، یہ دور افتادہ علاقے ہیں جہاں سکول جانے والے بچے روزانہ زندگی اور موت کی کشش مکش میں مبتلا رہتے ہیں اور ان علاقوں میں سکول اتنے دور بنائے جاتے ہیں کہ والدین کو بنیادی سہولتیں نہ ہونے کے باعث خطرناک کیبل کار کے ذریعے بچوں کو سکول بھجوانے پر مجبور ہوتے ہیں ، کوئی حکومتی ادارہ ایسا نہیں جو ڈولی کیبل کے معیار کو چیک کرے ، مقامی ادارے کوالٹی کنٹرول برقرار رکھنے میں ناکام رہے ہیں اس سے پہلے بھی کئی حادثات ہو چکے ہیں ۔ چیئرپرسن ایجوکیشن پارلیمنٹرین کاکس سینیٹر ثناء جمالی نے اس معاملے میں اہم تجاویز پیش کی ہیں جن پر عمل کرنے سے مستقبل میں اس طرح کے حادثات سے بچا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہاآج کے واقعے سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اساتذہ اور طلبہ کو مشکل اور راستے سے گزرکر سکولوں میں پہنچنا پڑتا ہے ، جن علاقوں میں آمدورفت کی سہولیات نہیں وہاں الگ سے سکول تعمیرکئے جانے چاہئیں اور انتظامیہ فوری طور پر ایسے علاقوںکی نشاندہی کرے اور سکولوں کی چھوٹی برانچز قریبی دیہات میں بنائی جاسکتی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ وہ یہ معاملہ سینیٹ میں بھی اٹھائیںگی اور وزیراعظم کے نوٹس میں بھی لایا جائے گا۔