بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

توشہ خانہ فوجداری کیس فیصلے کیخلاف عمران خان کی اپیل پر سماعت جاری

سپریم کورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ فوجداری کیس میں سزا کے فیصلے کیخلاف اپیل پر سماعت جاری ہے۔

عمران خان کی درخواست پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ سماعت کررہا ہے۔ بینچ کے دیگر 2 ارکان میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اورجسٹس جمال خان مندوخیل شامل ہیں۔

توشہ خانہ فوجداری کیس میں ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن اسلام آباد اوراسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک فیصلے کیخلاف دائراپیل کی سماعت کے آغازمیںچیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ نے دلائل کا آغازکیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے سامنے 3 درخواستیں ہیں، جس پرعمران خان کے وکیل نے وضاحت کی کہ درخواست گزارنے مختلف فیصلوں کیخلاف اپیلیں دائرکررکھی ہیں۔

الیکشن کمیشن میں عمران خان کی جانب سے جمع کروائے گوشواروں کی تفصیلات سے متعلق دلائل دینے والے لطیف کھوسہ نے کہا کہ عمران خان میانوالی سے 2018 میں ایم این اے منتخب ہوئے تھے، ان پرکاغذاتِ نامزدگی میں اپنے اوراہلیہ کے اثاثے چھپانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ رکن پارلیمنٹ ہر سال 31 دسمبر تک اپنے، اہلیہ اور بچوں کے اثاثوں کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو جمع کرانے کا پابند ہے۔ چھ ایم این ایز نے عمران خان کیخلاف اسپیکر قومی اسمبلی کو ریفرنس بھیجا جس میں اثاثہ جات سے متعلق جھوٹا ڈیکلیئریشن جمع کرانے کا الزام عائد کیا گیا۔اسپیکر نے یہ ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوایا۔

عمران خان کے وکیل نے جسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی کے استفسار پرالیکشن ایکٹ کا سیکشن 137 اور 4 پڑھا۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق الیکشن کمیشن 120 دن میں ہی کاروائی کرسکتا ہے۔

جسٹس مظاہرنقوی نے استفسار کیا کہ کیا ایک رُکن دوسرے کیخلاف ریفرنس بھیج سکتا ہے؟۔

لطیف کھوسہ نے جواب میں کہا کہ کوئی رکن ریفرنس نہیں بھیج سکتا،الیکشن کمیش خود بھی ایک مقررہ وقت میں ہی کاروائی کرسکتا ہے۔