اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی اور قانونی ٹیم کے رکن شعیب شاہین نے کہا ہے کہ ملک میں شفاف انتخابات نہ ہونے سے ریاست کو نقصان پہنچے گا، اسٹیبلشمنٹ آگ سے کھیلنا بند کرے اور تاریخ سے سبق سیکھے ،ایک بندے کی دشمنی میں انتہا تک نہ جائیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی قانونی ٹیم کے دیگر اراکین کے ہمراہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شعیب شاہین نے مزید کہا کہ ملک کو بے یقینی سے نکالیں مہنگائی کی شرح 38 فیصد تک پہنچ گئی ہے، آج ڈالر 320 کا بھی نہیں مل رہا ، نگران حکمران غیر جانبدار کہلوانے کے قابل نہیں ہیں، لوگوں کے دلوں سے عمران خان کی محبت نہیں نکالی جا سکتی، لوگ نفرت کا اظہار ووٹ کے ذریعے کریں گے، تمام سٹیک ہولڈر مل بیٹھ کر سوچیں کہ ملک کی بہتری کیسے کی جا سکتی ہے ا،لیکشن کمیشن غیر جانبدار نہیں ہے یہ پی ڈی ایم کی جماعتوں سے ملا ہوا ہے، سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے جو کہ الیکشن کمیشن اس کی خلاف ورزی کر رہا ہے ،صدر کو خط لکھنا نہ صرف غیر قانونی اور غیرآئینی ہے بلکہ توہین عدالت ہے، چیف الیکشن کمشنر کا صدر سے ملاقات کرنا صدر کے منصب کی توہین ہے، اس کیخلاف سپریم کورٹ میں جائیں گے، انٹرنیشنل فورم پر پی ٹی آئی ایکٹو ہے ہم نے انہیں فنڈ جمع کرنے سے منع کیا ہے،انہوں نے کہاکہ یوسف رضا گیلانی نے توشہ خانہ سے ایک گاڑی لی جو کہ وہ نہیں لے سکتے تھے جس پر نیب کا کیس بنا جس پر نیب کا قانون ہی تبدیل کر دیا گیا اور وہ کیس کورٹ میں نہیں پہنچ سکا،ہم آئین اور قانون پر یقین رکھتے ہیں، آج ملک ے نوجوان باہر بھاگ رہے ہیں کیونکہ انہیں یہاں کے قانون اور نظام انصاف پر یقین نہیں ہے، آج ملک میںبے یقینی کی صورتحال ہے،آج آئین عملی طور پر معطل ہے، صدر اسمبلی کی تحلیل کرنے پر انتخابات کی تاریخ دینے کا ذمہ دار ہے، الیکشن کمیشن کا صدر کو لکھا جانیوالا خط نہ صرف آئین و قانون کی خلاف ورزی اور توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ سپریم کورٹ اس حوالے سے فیصلہ دے چکی ہے اگر اسمبلی اپنی مدت پوری کرنے کے بعد تحلیل ہوتی تو پھر تاریخ دینے کا اختیار الیکشن کمیشن کا ہوتا،تمام قوانین آئین کے تابع ہوتے ہیں ،جے یو آئی اور پیپلز پارٹی نے بھی پی ٹی آئی کے مطالبے کو قبول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ملک میں شفاف انتخابات نہ ہونے سے ریاست کو نقصان پہنچے گا، شعیب شاہین








