لاہور: پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان نے بالی وڈ فلم رئیس میں کام کرنے کے بعد ملنے والے ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار رہی۔ یہاں تک کہ وہ ڈپریشن سے نمٹنے کے لیے ایک طویل عرصے سے ادوایات کا استعمال کر رہی ہیں۔
ماہرہ خان نے ایک پوڈکاسٹ کو انٹرویو میں بتایا کہ وہ کافی عرصے سے ذہنی دباؤ میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2017 میں جب انہوں نے رئیس فلم میں کام کیا ، کہ پاک بھارت تعلقات کشیدہ ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت میں فلم کرنے کے بعد مسلسل دھمکیاں موصول ہوئیں ۔ اداکارہنے کہا کہ ان کے خلاف سوشل میڈیا پر بات کی گئی ، ماہرہ کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش تھی کہ رئیس ہمارے ملک میں بھی نمائش کے لیے پیش کی جاتی۔ کیونکہ یہاں بھی لوگ شاہ رخ خان کے مداح ہیں۔ رئیس فلم کے بعد ملنے والے ردعمل سے اداکارہ کا کہنا تھا کہ ان کے اندر کا ڈپریشن باہر آنا شروع ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ میرے لیے وہ بہت مشکل ترین وقت تھا۔ ماہرہ خان کا کہنا تھا کہ 2017 میں رئیس فلم کرنے کے بعد انہیں بھارت سے بھی اور اپنے ملک میں بھی خاصا تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھارتی نیوزچینلز میں وہ اپنی تصاویر اورخبریں دیکھتی تھیں تو ان کے اندر بے چینی اور اصطرب بڑھنے لگتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسا وقت تھا کہ جب ان کا یقین کمزور ہونے لگا۔
پوڈ کاسٹ کے دوران ماہرہ نے بتایا کہ ایک دن اتنا ذہنی دباو برداشت کرنے کے بعد انہیں ایک پینک اٹیک ہوا ۔جس کے بعد سے ان کی تھراپی ہوئی۔ انہوں نے کہا ڈپریشن اتنا شدید تھا کہ وہ ایک ماہر نفسیات کے پاس جاتی دوسرے کے پاس جاتیں مگر ان کی ذہنی حالت میں کسی بھی طور بہتری نہیں آرہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس مجھ سے محبت کرنے والے موجود تھے مگر وہ تو باہر تھا لیکن اندرونی طور پر مجھے سکون نہیں مل پا رہا تھا بے حد بے چینی تھی۔









