بھارت کے سابق کرکٹر عرفان پٹھان ایک مرتبہ پھر پاکستان اور ہندوستان کے میچ کے بعد تنقید کی زد میں ہیں اور اس مرتبہ خود بھارتی ان کے تبصرے کو غیر ضروری اور غیر اہم قرار دے رہے ہیں۔
ایشیاکپ میں ہفتے کو ہونے والا پاک بھارت میچ بارش کے باعث بے نتیجہ ختم ہوگیا تاہم قومی ٹیم کے فاسٹ بولرز نے تباہ کن بولنگ سے دنیا بھر کے مداحوں کے دل جیت لیے۔
کینڈی سے جب اعلان کیا گیا کہ مسلسل بارش کے سبب میچ کو ختم کرنا پڑے گا، اس وقت عرفان پٹھان نے ایکس کا رُخ کیا اور پاکستانیوں پر طنز کیا۔
سابق کرکٹر نے لکھا ‘بہت سارے پڑوسیوں کے ٹیلی ویژن بچ گئے آج’۔
Bahot saare Padosiyon ke TV bach gaye aaj;)
— Irfan Pathan (@IrfanPathan) September 2, 2023
عرفان پٹھان کی ٹوئٹ کا مطلب تھا کہ اگر میچ مکمل ہوتا تو پاکستان کو اس میچ میں شکست ہوتی اور بہت سارے پاکستانی ہار کے دکھ میں اپنے ٹی وی توڑ دیتے۔
یہ ٹوئٹ ناصرف پاکستانی مداحوں کو غیر ضروری لگی بلکہ بھارتی صارفین کو بھی ناگوار گزری۔
معروف بھارتی صحافی اور پروفیسر اشوک سوین نے ٹوئٹ کی اور عرفان پٹھان کے حوالے سے سخت الفاظ استعمال کیے، انہوں نے لکھا ‘عرفان پٹھان جو کچھ بھی کریں یا جو کہہ لیں، بھارت میں ہندو بالادست انہیں کبھی اپنا نہیں مانیں گے’۔
Whatever Irfan Pathan does and says, Hindu supremacists in India will never accept him as his own!
— Ashok (@ashoswai) September 2, 2023
اس کے علاوہ ایک بھارتی ایکس اکاؤنٹ نے اپنی ٹوئٹ میں ایشین کرکٹ کونسل کے سربراہ اور بھارتی بورڈ کے سیکرٹری جے شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے عرفان کی ٹوئٹ پر طنز کیا ‘عرفان کی قوم پرستی کی سبسکرپشن میں مزید سات روز کا اضافہ کردو’۔
Hello beta Jay, Irfan ka Nationalism ka subscription 7 days tak extend kar do pic.twitter.com/QZT3GT8lRY
— Rofl Democrazy (@FakeerHun) September 2, 2023
ایک اور بھارتی صارف نے سابق کرکٹر کو آئینہ دکھایا اور بھارتی زبان میں لکھا ‘آپ کتنی ہی حب الوطنی کا ثبوت دے دیں لیکن پھر بھی ایک دن آپ سے کاغذات مانگے جائیں گے’۔
तुम कितनी भी देशभक्ति साबित कर लो लेकिन फिर भी एक दिन भक्त आप को जरूर बोलेंगे काग़ज़ दिखाना पड़ेगा।
— Prof. इलाहाबादी ( نور ) (@ProfNoorul) September 2, 2023
راکھی تریپاٹھی نے عرفان پٹھان کی اس ٹوئٹ پر ناگواری ظاہر کی اور لکھا ‘کھیل اور اپنے پڑوسیوں کا احترام کریں’۔
Respect the sport and our neighbors. This is cheap.
— Rakhi Tripathi (@rakhitripathi) September 2, 2023
سیف احمد نامی صارف نے کہا ‘اس طرح کا تبصرہ وہ بھی سابق کرکٹر اور اس ٹورنامنٹ میں کمنٹری کرنے والے کی جانب سے کرنا انتہائی بچگانہ عمل ہے، ہر کوئی جانتا ہے کہ اس میچ میں کچھ بھی ہو سکتا تھا’۔
Very immature tweet from someone who is a former player and in the commentary panel of this tournament. Everyone knows this game was still 50-50. No point of triggering either side by tweeting such nonsense. https://t.co/8ggnjWgUs2
— Saif Ahmed 🇧🇩 (@saifahmed75) September 2, 2023
ایک اور صارف نے کہا کہ اس کا جواب ہم کیا دیں، شاہین نے دے دیا ہے۔
Iska jawab hum kya dein Shaheen ne achay se dediya hai 🙂 https://t.co/fCpezqZ5rb pic.twitter.com/UVDQch1iMH
— ~FREE PALESTINE #ISTANDWITHPALESTINE (@ImaginatorC) September 2, 2023









