اسلام آباد(طارق محمود سمیر) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اپنی آئینی مدت ختم ہونے کے بعد اپنے اہم ترین آئینی اختیارکو استعمال کرکے الیکشن کی تاریخ کا جوفیصلہ کر لیا ہے اگر اس کا باضابطہ اعلان کردیتے ہیں تو ملک میں ایک نیا آئینی بحران پیدا ہو جائے گا،صدرکو اس اعلان سے روکنے کیلئے کئی اہم ترین شخصیات کی ان سے ملاقاتیں ہو چکی ہیں جنہیں خفیہ رکھا گیا تاہم ایک سابق وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی بھی اس سلسلے میں صدر سے ملے تھے اور انہوں نے صدرکو جو پیغام پہنچایا اگر اس کے بعد بھی صدر مملکت اپنے اس متنازع آئینی اختیارکو استعمال کرتے ہیں تو پھر ملک میں مزید مسائل جنم لیںگے، پہلے ہی پاکستان گزشتہ دو سال سے سیاسی اور شدید معاشی بحران کا شکار ہے، حال ہی میں معیشت میں بہتری ،ڈالر سمگلنگ کی روم تھام کیلئے نگران حکومت کے علاوہ آرمی چیف نے عملاً اقدامات کئے جن کے مثبت نتائج آرہے ہیں، جہاں تک صدر مملکت کی طرف سے الیکشن کی تاریخ دینے کے آئینی اختیارکا معاملہ ہے اس حوالے سے خاصا ابہام پایا جاتا ہے ، سابق پی ڈی ایم حکومت اور نگران حکومت کے وزراء کا یہ موقف ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017میں ترمیم کی گئی تھی جس کی صدر نے پہلے مرحلے میں منظوری نہیں دی اور بعد ازاں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں یہ قانون پاس کیا گیا،اس قانون سے پہلے یہ اختیارصدرکے پاس موجود تھا ، بعض قانونی ماہرین کا موقف ہے کہ فرض کریں صدر مملکت اپنے متنازع آئینی اختیار کا استعمال کرتے ہوئے الیکشن کی تاریخ دے دیتے ہیں تو اس پر عمل درآمد بہت مشکل ہوگا اور دوسرا معاملہ یہ ہے کہ صدر کے پاس صرف قومی اسمبلی کا الیکشن کرانے کی تاریخ دینے کا اختیار ہے ،صوبائی اسمبلیوںکے الیکشن کرانے کی تاریخ دینے کا اختیار صوبائی گورنرزکے پاس ہے اور یہی موقف تحریک انصاف نے اس وقت اپنایا تھا جب پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیاں قبل ازوقت توڑی گئی تھیں گوکہ اس وقت پنجاب میں الیکشن کی تاریخ سپریم کورٹ کی طرف سے دیے جانے کے باوجود الیکشن نہیں ہوسکے تھے ، پاکستان میں الیکشن ایک ہی تاریخ پر ہونے چاہئیں یہ نہیں ہوسکتا کہ صدر مملکت قومی اسمبلی کی تاریخ دیں اور گورنرز الگ تاریخ دیں،جو بھی فیصلہ ہو وہ متفقہ ہونا چاہیے ، تحریک انصاف نے بھی صدرکو خط لکھا ہے کہ وہ الیکشن کی فوری تاریخ دیں۔ پارٹی کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب کی طرف سے صدرکو خط لکھا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 48(5)میں قومی اسمبلی توڑنے کی صورت میں صدرکو 90دن میں الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار حاصل ہے ۔ اس معاملے پر ن لیگ نے بھی سخت ردعمل ظاہر کردیا ہے ، مریم اورنگزیب نے اپنے بیان میں صدر پر طنزکرتے ہوئے کہا کہ وہ تحریک انصاف کے سیکرٹریٹ میں جا کر بیٹھ جائیں جبکہ عطا تارڑ نے یہ موقف اختیارکیا کہ صدر اپنی مدت پوری کرچکے ہیں وہ اب عبوری صدر ہیں اور الیکشن کی تاریخ نہیں دے سکتے، میں عطا تارڑ کے اس موقف سے اتفاق نہیںکرتا، عارف علوی آئینی طور پر اس وقت تک صدر رہ سکتے ہیں جب تک نئے صدر کا الیکشن نہیں ہوجاتا، ویسے جب چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی قائمقام صدر بنتے ہیں تو وہ بھی مکمل طور پر آئینی اختیار استعمال کرتے ہیں ، علاوہ ازیں پاکستان میں ڈالرکی سمگلنگ کیخلاف کریک ڈائون کے بعد افغانی کرنسی کی قدر میں کمی ہوچکی ہے ، گزشتہ پانچ روزکے اندر امریکی ڈالرکی قیمت72افغانی روپے سے بڑھ کر 81افغانی روپے ہوگئی ہے، 5ستمبر تک ایک افغانی روپے کے بدلے میں 4اعشاریہ 19پاکستانی روپے دستیاب تھے تاہم یہ شرح گر کر 3اعشاریہ 84ہوچکی ہے ،جب سے ڈالرکی سمگلنگ کے خلاف پاکستان میں آپریشن تیز ہوا ہے پاکستان میں ڈالرکی قیمت کم اور پاکستانی روپیہ کسی حد تک مستحکم ہوا ہے ، ماضی میں پاکستانی ادارے اور افسران کرپشن میں ملوث رہے اور افغانستان میں ڈالرکے علاوہ کھانے پینے کی اشیاء کی سمگلنگ کھلے عام ہورہی تھی اور اس وجہ سے پاکستانی معیشت مشکلات کا شکار رہی ، جب سے آرمی چیف نے اس معاملے میں دلچسپی لی ہے صورتحال میں قدرے بہتری آئی ہے ، افغان بارڈر کو بھی سیل کیا گیا ہے ، وزیراعظم کو ایک خفیہ ادارے کی جو رپورٹ پیش کی گئی اس میں 29سیاستدان اور90افسران کے ایرانی تیل سمگلنگ میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے ، وزیراعظم کو چاہیے کہ سخت ایکشن لیں اور سیاستدانوں اور افسران کی فہرست جاری کی جائے تاکہ قوم دیکھ سکے کہ وہ کون سے سیاستدان ہیں جو غریبوں سے ووٹ لے کر مہنگائی کا باعث بن رہے ہیں اور وہ کون سے افسران ہیں جو پاکستانیوں کے ٹیکسوں سے تنخواہ تو لیتے ہیں لیکن تنخواہ سے زیادہ رشوت لیتے ہیں اور ملک اور قوم کو نقصان پہنچا رہے ہیں ایسے عناصر کو بے نقاب کرنے کے علاوہ انہیں قانون کے کٹہرے میں لاکر سخت سزائیں دینے کی ضرورت ہے ۔
ملک شدید معاشی بحران کا شکار، صدر علوی کی جانب سے الیکشن کی تاریخ کا ممکنہ اعلان؟ تجزیاتی رپورٹ








