اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس میں اٹارنی جنرل منصور اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ یہ قانون عدلیہ کو مزید جمہوری اقدار کا حامل بناتا ہے،یہاں ہم انتظامی اختیارات کی بات کررہے ہیں،میرے خیال میں یہ کیس قابل سماعت ہی نہیں۔
نجی ٹی وی کے مطابق اٹارنی جنرل منصور اعوان نے مزید دلائل دیتے ہوئے کہاکہ مجھے 30منٹ بات کرنے کی اجازت دی جائے،پہلا سوال ہے کیا ان درخواستوں میں عوامی مفاد کا معاملہ اٹھایا جارہا ہے؟کیا صدر ایڈوائس پر عمل کرتا ہے یا خود اس کی منظوری دیتا ہے؟چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ہمارے پاس ہائی کورٹ میں اضافی اختیارات نہیں ہیں،کیا آپ میری آسانی کیلئے آرٹیکل 184پڑھ دیں گے۔









