سیئول (ممتازنیوز)جنوبی کوریا میں خواتین نے احتجاجاً شادیاں کرنااور بچے پیداکرناچھوڑ دیا ،شرح پیدائش میںنمایاں کمی حکومت کے لیے پریشانی کا باعث بن گئی۔ ایک سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کوریائی خواتین مردوں کے مقابلے بچوں کی پیدائش کی کم خواہش مند ہیں اور ملک میں گزشتہ تین سال میں شرح پیدائش سب سے کم رہی۔زیادہ ترخواتین شادی کرنے کے بجائے ملازمت کو ترجیح دیتی ہیں۔ کوریا کے صدر یون سک یول نے فیمنزم کو’’مردوں اور عورتوں کے درمیان صحت مند تعلق‘‘ میں رکاوٹ کے حوالے سے مورد الزام ٹھہرایا۔دراصل کوریا کے پدرانہ معاشرے میں خواتین کو بچوں کی پیدائش پر بہت تگ ودوکرناپڑتی ہے یہی وجہ ہے کہ بہت سی خواتین شادی کے بعد اپنی معاشی خودمختاری کے لیے کام کرنے کے ارادے یا اہداف ترک کر دیتی ہیں۔ زیادہ تر خواتین اپنے خاندان کی دیکھ بھال کے لیے 30 سال کی عمر میں ملازمت چھوڑ دیتی ہیں ۔ کوریا میں حقوق نسواں کی قبولیت کے ساتھ ساتھ گھٹتی ہوئی شرح پیدائش نے حکومت کو پریشان کر دیا ۔ بہت سی کوریائی خواتین بچے پیداکرنے کی ہڑتال یا شادی کی ہڑتال کو پدرانہ نظام سے لڑنے کا واحد حل سمجھتی ہیں۔ صنفی مساوات کی سابق وزیر چنگ کے مطابق پچھلے 16 برسوں میں کوریائی حکومت نے 280 ٹریلین وان ($210 بلین) بچے پیدا کرنے کی ترغیبات پر خرچ کئے تاہم انہوں نے کہاکہ جب تک معاشرہ خواتین کی شکایات وتحفظات کا ازالہ نہیں کرتا بچوں کی پیدائش کے حوالے سے خواتین کی’’ ہڑتال‘‘ ختم نہیں ہوگی۔
پدرانہ نظام کیخلاف تحریک،کوریائی خواتین نے شادیاں ،بچے پیداکرناچھوڑدیا،شرح پیدائش میں نمایاں کمی پر حکومت پریشان







