بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

افغان حکومت کے بیانات پر وزیر اعظم کا دوٹوک جواب

اسلام آباد ( طارق محمود سمیر ) نگران وزیر اعظم انوار الحق کا کڑ نے افغان عبوری حکومت کے بعض رہنماؤں کے پاکستان مخالف غیر ذمہ دارانہ بیانات کا موثر اور سخت جواب دیکر پاکستانی قوم کی ترجمانی کر دی ہے اور افغان حکومت کو صحیح مشورہ دیا ہے کہ پاکستان تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے جود ہشتگر دافغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں دہشتگردی۔ کی کارروائیاں کرا رہے ہیں ان کے خلاف تو از خود کارروائیاں کرے اگر ایسا نہیں کر سکتے تو انہیں پاکستان کے حوالے کیا جائے ۔ نگران وزیر اعظم نے یہ بھی واضح کیا امریکہ ہو یا کوئی اور ملک پاکستان پر نہ تو دباؤ ڈال سکتا ہے اور نہ ہی پاکستان کی حکومت کسی کا دباؤ قبول کرے گی ۔ ہم نے قومی مفاد میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی بے دخلی کا فیصلہ کیا ہے جس پر ہر صورت میں عمل کیا جائے گا۔ بدھ کو نگران وزیر اعظم نے ازبکستان کے دورے پر جانے سے قبل وزیر اعظم ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے حال ہی میں افغان رہنماؤں کی طرف سے دیئے گئے بیانات کا حوالہ دیا اور بتایا کہ پاکستان میں حالیہ دو سالوں میں دہشتگردی میں ساٹھ فیصد اضافہ ہوا ہے ، 2 ہزار پاکستانی شہری شہید ہو چکے ہیں ، 64 افغانی دہشتگر دسیکیورٹی فورسز سے مقابلے میں مارے گئے ہیں ، پاکستان کی حکومت نے افغان حکومت کو تمام حقائق اور ثبوت پیش کر دیئے لیکن اس کے باوجود ابھی تک افغان حکومت کی طرف سے مثبت تعاون نہیں کیا گیا اور افغانستان میں موجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشتگر دموجود ہیں جن کے تربیتی کیمپ ہیں اور اسی وجہ سے وہ پاکستان میں دہشتگردی کرتے ہیں ، افغان حکومت نے ان کے خاتمے کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا اب ان سے مطالبہ ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کو پاکستان کے حوالے کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے جو پالیسی بنائی ہے یہ کسی سے دشمنی کے لئے نہیں اپنی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے بنائی ہے۔ وزیر اعظم نے پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں واضح اور دوٹوک انداز میں کہا کہ امریکہ ہو یا کوئی اور ملک ہم کسی کا دباؤ قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی سفیر آکر ڈیمانڈ نہیں کرسکتا، سفارتکاری کے ذریعے رابطے ہوتے ہیں۔ وزیر اعظم نے اپنی پریس کا نفرنس میں میری رائے میں قوم کی پالیسی اور قوم کی رائے کا اظہار کیا ہے کیونکہ پاکستان اب اس بات کا متحمل نہیں ہوسکتا کہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو پاکستان میں مزید رہنے دیا جائے ۔ 70 ہزار پاکستانی شہید ہو چکے ہیں، ہماری معیشت پر منفی اثرات پڑے، کلاشنکوف کلچر آیا ، منشیات کی سمگلنگ بھی ہوئی ، ڈالر کی سمگلنگ روکی گئی تو پاکستان میں ڈالر کی قیمت کم ہوئی۔ سمگلنگ روکنے کا بھی افغان حکومت کو غصہ ہے، ہم سمگلنگ کی اجازت دے کے افغان کرنسی کو مضبوط اور پاکستانی روپے کو کمزور نہیں کر سکتے ۔ وزیر اعظم کی پریس کانفرنس کے بعد عمران خان سے متعلق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان بھی زیر بحث آیا جس میں ٹرمپ نے یہ کہا تھا کہ ایرانی جنرل قاسم سلمانی کی ہلاکت کے واقعے پر عمران خان بہت دکھی ہوئے تھے اور گوشہ نشین ہو گئے ۔ وزیر اعظم نے اخبار نویسوں سے شکوہ کیا کہ آپ لوگوں نے اس پر کچھ لکھا ہے اور نہ ہی ٹاک شو کئے ہیں حتی کہ عمران خان سے بھی کوئی سوال نہیں کیا۔ جس پر روز نامہ ممتاز نے کہا کہ عمران خان جیل میں ہیں آپ ہمیں جیل بھجوا دیں ہم عمران خان سے پوچھ لیں گے جس پر وزیر اعظم نے مسکراہتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو جیل کیوں بھیجو اؤں آپ خود جیل جائیں اور عمران خان سے یہ سوال ضرور پوچھیں کہ ٹرمپ نے ان کے بارے میں ایسا کیوں کہا ہے۔