اسلام آباد(طارق محمود سمیر) سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے دیئے گئے شوکاز نوٹس کا جواب دینے کی بجائے جوڈیشل کونسل کی تشکیل اور چیف جسٹس پر اعتراضات کردیئے ہیں اور ان کا یہ کہنا ہےکہ جوڈیشل کونسل میں متفقہ فیصلہ نہیں ہوا اس لئے انہیں شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ قانون کے منافی اور جانبداری ہے ۔جسٹس مظاہر علی نقوی کیخلاف سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے دور میں مس کنڈکٹ اور مبینہ کرپشن کے الزامات پرریفرنس دائر کیا گیا تھا مگر سابق چیف جسٹس نے کوئی کارروائی نہیںکی نہ ہی جوڈیشل کونسل کا اجلاس بلایا کیونکہ سابق چیف جسٹس نے مخصوص ججزکا ایک گروپ بنا رکھا تھا اورمخصوص بینچز تشکیل دیکر جو فیصلے کرتے رہے ہیں وہ عدلیہ کی تاریخ کے متنازعہ فیصلے بن گئے ہیں ۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور دیگر ججز کو بینچز میں شامل نہیں کیا جاتا تھا ۔ جسٹس مظاہر علی نقوی ان کے مختلف بینچز میں شامل ہوتے تھے۔ جہاں تک جسٹس مظاہر علی نقوی نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس سردار طارق مسعود اوربلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نعیم اختر افغان پراعتراضات اٹھائے ہیں ۔ اس کا معاملہ تو جوڈیشل کونسل ہی دیکھے گی کہ ان اعتراضات میںکتنا وزن ہے ۔ جسٹس مظاہر علی نقوی نے ان تینوں ججز کوجانبدار قرار دے دیا ہے اوران کا یہ بھی کہنا ہے کہ آڈیولیکس کا ایک کمیشن تشکیل دیا گیا تھا اوراس میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس نعیم اختر شامل تھے، انہیں اسی وجہ سے جوڈیشل کمیشن کا حصہ نہیں بننا چاہئے تھا۔ شوکاز نوٹس کا جواب نہیں دیا جاسکتا کیونکہ یہ نوٹس ایک جانبدار ججزکی طرف سے دیا گیا ہے اور یہ امتیازی سلوک اور آرٹیکل 25کی خلاف ورزی ہے ۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے میری سپریم کورٹ میں تعیناتی سمیت متعدد فیصلوںکی بھی مخالفت کی تھی اور جوڈیشل کونسل کی 27 اکتوبر کی پریس ریلیز میری رضا مندی کے بغیر کیوں جاری کی گئی ، میڈیا ٹرائل کرایا گیا ۔ سپریم جوڈیشل کونسل میں اکثریت سے صرف حتمی رائے صرف صدر مملکت کو بھجوائی جاسکتی ہے ، میرے معاملے میں شکایت کنندہ کو نہ تو بلایا گیا اور نہ ہی مزید معلومات فراہم کرنے کا کہا گیا۔ جسٹس مظاہر علی نقوی کی پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ تحریک انصاف کے صدر چوہدری پرویز الٰہی سے مبینہ طور پر ہونے والی ایک ٹیلی فونک گفتگوکی آڈیو سوشل میڈیا پر جاری کی گئی تھی جس میں بعض ایسی باتیں بھی ہوئیں جو جج کے کنڈکٹ کے منافی تھیں ، اس پر پی ڈی ایم حکومت نے انکوائری کے لئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا جس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نعیم اختر افغان کو شامل کیا گیا ۔ کمیشن کا ایک اجلاس منعقد ہوا تو اگلے روز ہی سابق چیف جسٹس عمرعطاء بندیال نے حکم امتناعی جاری کر دیا اورکمیشن کی تشکیل کوکالعدم قرار دے دیا جس کا بظاہر مقصد ایک تو جسٹس مظاہر علی نقوی کو فائدہ پہنچانا تھا اور دوسرا یہ تھا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے کی تحریک انصاف کے ایک رہنما کو ٹکٹ دلوانے سے متعلق ایک مبینہ آڈیو کے علاوہ جسٹس ریٹائرڈ عمر عطاء بندیال کی ساس اور خواجہ طارق رحیم کی اہلیہ کی آڈیو بھی منظر عام پر آئی تھی ، اس سارے معاملے پر پردہ پوشی کرنے کے لئے حکومت کی طرف سے تشکیل دیئے گئے کمیشن کو کالعدم قرار دیا گیا ۔ جہاں تک جوڈیشل کونسل کے 3 ارکان پر جسٹس مظاہرعلی نقوی کے اعتراضات کا تعلق ہے اس معاملے کو جوڈیشل کونسل اپنے آئندہ اجلاس میں ضرور دیکھے گی تاہم جسٹس مظاہر علی نقوی نے اپنے اوپر عائد ہونے والے کسی الزام کا کوئی جواب نہیں دیا ۔ ہمیں توقع کرنی چاہئے کہ وہ جوڈیشل کونسل میں پیش ہو کر اپنے اوپر لگنے والے تمام الزامات کو غلط ثابت کریں گے ۔علاوہ ازیں مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں نوازشریف کو عدالت سے ایک اور اہم ریلیف مل گیا ہے اور احتساب عدالت کے اسی جج نے ریلیف دیا ہے جس نے 2018 میں سزا سنائی تھی ، توشہ خانہ ریفرنس میں نوازشریف جب علاج کے لئے لندن چلے گئے تھے تو اسی جج نے ان کی جائیداد اور اثاثے ضبط کرنے کا حکم جاری کر دیا تھا اور آج اس حکم کواس بنا پر واپس لے لیا گیا ہے کہ نوازشریف واپس آکر عدالت میں پیش ہو چکے ہیں ان کی ضمانت ہو چکی ہے اب اثاثے ضبط رکھنا ضروری نہیں ہے ۔ میاں نوازشریف سیاسی طور پر متحرک ہو چکے ہیں، بلوچستان سے ایک مرتبہ پھر بڑے سردار ، نواب اور الیکٹیبلز ن لیگ میں آئندہ ہفتے شامل ہونے والے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اس وقت نوازشریف کو دھوکہ دیا جب وہ مشکل میں تھے اور سابق اسٹیبلشمنٹ کے دبائو میں آکر بلوچستان عوامی پارٹی تشکیل دی ، اب یہ حالات کا تقاضا کہہ لیں یا ستم ظریفی کہ وہی باپ پارٹی ن لیگ کی اتحادی بن رہی ہے اور اسی باپ پارٹی کے رہنما ن لیگ میں واپس آرہے ہیں ۔ بہرحال سیاست میں پارٹیاں تبدیل ہوتی رہتی ہیں لیکن پارٹیاں تبدیل کرنے والوںکوکہیں تو بریک لگانا ہوگی ، ملک اور صوبے کے مفاد میں فیصلے کرنے ہوں گے ۔ بلوچستان میں آئندہ ن لیگ ، باپ پارٹی اور جے یو آئی کی بنانے کی حکومت بنانے کی سیاسی منصوبہ بندی ہو رہی ہے اور پیپلزپارٹی اسی لئے لیول پلیئنگ فیلڈ کی باتیں کر رہی ہے حالانکہ آصف زرداری 2018 میں یہی کہا کرتے تھے کہ ن لیگ کو میں نے ختم کرایا اور باپ پارٹی بنوائی ۔ اب آصف زرداری کے کنٹرول سے باپ پارٹی نکل چکی ہے ، بہر حال آئندہ چند روز میں ملکی سیاست کے حوالے سے کئی اور اہم فیصلے ہونے والے ہیں ۔
جسٹس مظاہرکیخلاف ریفرنس بندیال دورمیں آیا








