اسلام آباد(طارق محمود سمیر) خیبر پختونخوا کے نگران وزیراعلیٰ محمد اعظم خان کی وفات کے بعد صوبے میں نگران حکومت کے حوالے سے ایک آئینی بحران پیدا ہو گیا ہے ، آئین بنانے والوں نے جب نگران حکومتوں کی تشکیل کا طریقہ کار طے کیا تھا، اس وقت انہوں نے اس پہلوکو مکمل نظر اندازکیا کہ خدانخواستہ نگران وزیراعظم یا وزرائے اعلیٰ میں سے کوئی بھی اس عرصے میں انتقال کر جائے یا استعفیٰ دے دے تو نئی تقرری کیسے ہوگی اس بارے میں آئین فی الحال مکمل طور پر خاموش ہے ۔رضا ربانی ہوں یا اعظم نذیر تارڑکسی بھی آئینی ماہر نے آئین میں ترامیم کرتے وقت اس پہلوکو نہیں دیکھا جس کی وجہ سے آج خیبر پختونخوا میں بڑا آئینی بحران پیدا ہو گیا ہے ، اس ضمن میں آئینی اور قانونی ماہرین متضاد رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشادکا کہنا ہے کہ نگران وزیراعلیٰ کی وفات کے بعد فی الحال تو ایسا ہی دکھائی دیتاہے کہ آئین خاموش ہے اور بحران نظر آرہاہے کہ نئے منتخب وزیراعلیٰ کے انتخاب تک خیبر پختونخوا کا نیا نگران وزیراعلیٰ کون ہو گا۔ انہوں نے کہا اس وقت ایک ہی منتخب ادارہ سینیٹ موجود ہے جس میں قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف مشاورت کر کے کسی ایک نام پر اتفاق کر لیں اگر ان میں اتفاق نہ ہو تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو بھیج دیا جائے اور پارلیمانی کمیٹی بھی اتفاق نہ کر سکے تو پھر الیکشن کمیشن اس ضمن میں فیصلہ کرے۔دیگر آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ سینیٹ کا نگران حکومت کی تشکیل میں کوئی کردار نہیں ہے، نہ آئین میں ایسا ذکر ہے ، آئین میں قومی اسمبلی اورصوبائی اسمبلیوں کے قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کا ذکر ہے ۔کنور دلشاد کی تجویز اپنی جگہ حالات کے تقاضوں کے مطابق ہے مگر آئینی نہیں ہے ۔نگران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے دعویٰ کیا ہے کہ پختونخوا میںکوئی آئینی بحران نہیں ہے اور نگران وزیراعلیٰ کی وفات کے بعد نئے وزیر اعلیٰ کی تقرری آئین اور قانون کے مطابق کی جائے گی۔ دیکھتے ہیں اس حوالے سے آئندہ ہفتے کیا فیصلے ہوتے ہیں، ویسے ملک میںکونسا سارے فیصلے آئین کے مطابق ہو رہے ہیں ، آئین میں تو یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ اسمبلی ٹوٹنے کے بعد 90 دن میں الیکشن ہونے ہیں، خیبر پختونخوا اور پنجاب اسمبلی کب کی ٹوٹی ہوئی ہے الیکشن نہیں ہوئے ، کئی 90 دن گزر چکے ہیں اسی طرح قومی اسمبلی کے الیکشن 90دن میں ہونے ہوتے تو اب تک ہوچکے ہوتے ۔ کے پی کے میں نئے نگران وزیراعلیٰ کا فیصلہ بھی آئین سے ہٹ کر ہی کیا جائے گا۔دوسری جانب تحریک انصاف کے سابق سیکرٹری جنرل اسد عمر نے بھی ایک مرتبہ پھر سیاست سے توبہ کرلی ہے اور تحریک انصاف کی بنیادی رکنیت سے بھی استعفیٰ دے دیا ہے ، اسد عمر بہت کمزور سیاستدان ثابت ہوئے ہیں ،اس میں ان کا کوئی قصور نہیںکیونکہ یہ ایک ریٹائرڈ جنرل کے بیٹے ہیں جنہوں نے 1971 میں مشرقی پاکستان میں جوکچھ کیا اس کا ذکر حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ میں موجود ہے اور مرحوم مشاہد اللہ خان ایک ٹی وی شو میں اسد عمرکے ساتھ بہت سخت باتیں کر چکے ہیں ۔ اسد عمر ایک پرائیویٹ کمپنی میں ملازمت کر رہے تھے وہاں سے استعفیٰ دیکر سیاست میں آئے ، ن لیگ میں جانا چاہتے تھے لیکن ان کے ایک بھائی محمد زبیر عمر کے (ن) لیگ میں ہونے کے باعث عمران خان کو اپنا لیڈر بنایا اور پھر تھوڑی سی مشکل آئی ایک دو ہفتے اڈیالہ جیل جانا پڑا تو سب سے پہلے پریس کانفرنس کرنے والوں میں اسد عمر ہی شامل تھے۔ ملکی معیشت کو تباہی کے دھانے پر دھکیلنے کا کریڈٹ بھی اسد عمر کو ہی جاتا ہے کیونکہ 2018 میں عمران خان کی حکومت میں جب وہ وزیر خزانہ بنے تو بروقت آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ نہیں کیا جس کی وجہ سے ملکی معیشت خراب ہوئی جو آج تک سنبھل نہیں سکی اور اسی پاداش میں عمران خان نے انہیں وزارت خزانہ سے برطرف کر دیا تھا اور بعد ازاں پارٹی کا سیکرٹری جنرل بنایا۔ اسد عمر سیاسی لحاظ سے پست قامت ثابت ہوئے ہیں ،اب انہیں چاہئے کہ وہ کسی ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازمت کریں کیونکہ سیاست ان کے بس میں نہیں ہے ۔
نگران وزیراعلیٰ کیسے بنے گا؟کے پی میں نیا بحران








