اسلام آباد(اصغر چوہدری ) ملک بھر میں عام انتخابات کے لیئے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد سکرونٹی کا عمل شروع ہو گیا ،2018کی نسبت انتخابات 2023کے لیئے 7144امیدواروں نے کاغزات نامزدگی زیادہ جمع کروائے ہیں ۔مجموعی طور پر امیدواروں کی تعداد28ہزار626تک جاپہنچی جبکہ 2018کے انتخابات کے لیئے21 ہزار482امیدواروں نے کاغزات نامزدگی جمع کروائے تھے ، خواتین امیدوارو ں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ،2013کے انتخابات کے لیئے مجموعی طور پر 28,302 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے ۔الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں عام انتخابات کیلئے 28 ہزار 626 کاغذات نامزدگی جمع ہوئے ہیں جن میں قومی اسمبلی کی جنرل نشستوں کیلئے 7242 مرد اور 471 خواتین امیداروں نے کاغذات جمع کرائے، خیبر پختونخوا سے قومی اسمبلی کی جنرل نشستوں کیلئے 1283 مرد اور 39 خواتین نے کاغذات جمع کرائے۔ اسلام آباد سے قومی اسمبلی کی نشستوں پر 182 مرد اور 26 خواتین جبکہ پنجاب سے قومی اسمبلی کی سیٹوں کیلئے 3594 مرد اور 277 خواتین امیدواروں ،سندھ سے قومی اسمبلی کی 1571 مرد اور 110 خواتین امیدواروں اور بلوچستان سے قومی اسمبلی کیلئے 612 مرد اور 19 خواتین نے اپنے کاغذات جمع کرائے،صوبائی اسمبلوں کے لیے 17 ہزار 744 مرد اور 802 خواتین امیداروں نے نامزدگی جمع کرائی ہے۔ خیبر پختوانخوا اسمبلی کیلئے 3349 مرد اور 115 خواتین اور پنجاب اسمبلی کیلئے 8592 مرد اور 437 خواتین امیدوروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے،سندھ اسمبلی کیلئے 4060 مرد اور 205 خواتین امیدواروں اور بلوچستان اسمبلی کیلئے 1743 مرد اور 45 خواتین کی جانب سے نامزدگیاں جمع کرائی گئیں۔ خواتین کی قومی اسمبلی کی مخصوص نشستوں کیلئے 459 کاغذات جمع کرائے گئے،خیبر پختونخوا سے 97، پنجاب سے 195، سندھ سے 118 اور بلوچستان سے 49 خواتین نے قومی اسمبلی کی مخصوص نشستوں کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی کیلئے 321، پنجاب اسمبلی کیلئے 601، سندھ اسمبلی کیلئے 309 اور بلوچستان اسمبلی کیلئے 134 خواتین نے مخصوص نشستوں پر کاغذات جمع کرائے،غیر مسلموں کی نشست پر قومی اسمبلی کے لیے 140 مرد اور 10 خواتین جبکہ صوبائی اسمبلیوں کی غیر مسلموں کی مخصوص نشست کیلئے 361 مرد اور 32 خواتین نے کاغزات نامزدگی جمع کرائے۔2018کے انتخابات کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو 2018 میں 21,482 کاغذات نامزدگی داخل ہوئے تھے جبکہ 2013 میں الیکشن کمیشن کے اعدادوشمار کے مطابق 28,302 تھے۔2018کے انتخابات کے لیئے قومی اسمبلی کی نشستوں کے لیے بلوچستان، خیبر پختونخوا، فاٹا، پنجاب، اسلام آباد اور سندھ میں کل 5,473 افراد نے کاغذات نامزدگی داخل کرائے، جبکہ 2013 میں ان کی تعداد 7,996 تھی۔ البتہ خواتین کی مخصوص قومی نشستوں کی بات کی جائے تو خواتین کی تعداد بڑھ کے 2013 میں 350 سے 2018 میں 436 ہوگئی ہے،2018میںبلوچستان سے قومی اسمبلی کے 435 کاغذات موصول ہوئے جو کہ 2013 میں 439 تھے۔ خیبر پختونخوا معہ فاٹا سے قومی اسمبلی کے 992 کاغذات موصول ہوئے، جو 2013 میں 1390 تھے۔ پنجاب معہ اسلام آباد میں 2700 کاغذات موصول ہوئے جو 2013 میں 4160 تھے۔ اسی طرح سندھ میں 1346 کاغذات موصول ہوئے جو 2013 میں 2007 تھے۔ بلوچستان سے 2018 میں کل 1,400 کاغذات موصول ہوئے جبکہ 2013 میں 1,648 کاغذات موصول ہوئے تھے۔ خیبرپختونخوا اور فاٹا میں مجموئی طور پر 2018 میں 1,920 کاغذات موصول ہوئے، 2013 میں ان کی تعداد 2,572 تھی۔ پنجاب سے 2018 میں 6,747 کاغذات داخل ہوئے جبکہ 2013 میں ان کی تعداد 9,392 تھی۔ صوبہ سندھ میں 2018 میں 3,626 کاغذات موصول ہوئے تھے جن کی تعداد 2013 میں 5,213 تھی۔اگر اقلیتوں پر نظر دوڑائی جائے تو مجموعی طور پہ صوبائی سطح پر 2018 میں ان کی تعداد بڑھ کے471 ہوگئی ہے، جو 2013 میں 310 تھی۔ اسی طرح خواتین کی مخصوص نشستوں کی بات کی جائے تو صوبوں میں مجموعی طور پر اضافے کے بعد 2018 میں 1,255 ہو گئی جو 2013 میں 821 تھی۔
28 ہزار امیدواروں نے 25 کروڑعوام کی خدمت کیلئے کمر کس لی








