پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے الیکشن کمیشن کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق فیصلے کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دینے اور بلے کا انتخابی نشان واپس لینے کے فیصلے کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں جانے کا فیصلہ کیا تھا۔
22 دسمبر کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دیتے ہوئے بلے کا انتخابی نشان واپس لے لیا تھا۔
فیصلے میں کہا گیا تھا کہ تحریک انصاف نے 23 نومبر 2023 کو دیے گئے فیصلے میں کی گئی ہدایات پر عمل نہیں کیا اوہ وہ پی ٹی آئی کے 2019 کے آئین، الیکشن ایکٹ 2017 اور الیکشن رولز 2017 کے مطابق انٹرا پارٹی الیکشنز کرانے میں ناکام رہیں۔
پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بلا تھا اور بلا ہی رہے گا، بابر اعوان
قبل ازیں، آج پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما و سابق وزیر بابر اعوان نے کہا کہ پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بلا تھا اور بلا ہی رہے گا۔
ڈان نیوز کے مطابق الیکشن کمیشن کے پی ٹی آئی سے انتخابی نشان واپس لینے کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے لیے بابر اعوان پشاور ہائی کورٹ پہنچے۔
اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ عمران خان پی ٹی آئی کے چیئرمین تھے اور رہیں گے، الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کر رہے ہیں، سپریم کورٹ میں بھی توہین عدالت کیس دائر کرنے جارہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ الیکشن میں جو بھی رکاوٹ ڈالے گا ان کےخلاف توہین عدالت ہوگا، پنجاب میں پی ٹی آئی کے ساتھ پری پول دھاندلی ہورہی ہے، خواتین کے آنچل کھینچے گئے اور بازوں مروڑے گئے، امیدواروں سے کاغذات نامزدگی تک چھینے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی مرکزی سیکریٹری اطلاعات معظم بٹ نےنجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ کل ہائی کورٹ میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف رٹ دائر کریں گے، پی ٹی آئی کے مرکزی قائدین ہائی کورٹ میں کیس دائر کریں گے۔
انہوں نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ قانونی طور پر ناقص ہے، فیصلے میں نہ انصاف کیا گیا ہے اور نہ کیا جا رہا ہے، الیکشن کمیشن میں درخواست گزاروں نے بد نیتی پر کسی کے کہنے پر درخواستیں دی تھیں۔









