کراچی(ویب ڈیسک)سینئر رہنما پی ٹی آئی حامد خان نےنجی ٹی وی کے پروگرام ’’نیا پاکستان‘‘ میں میزبان شہزاد اقبال کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے ہم الیکشن میں حصہ لے رہے تھے اور ہمیں قانونی طور پر الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت تھی ۔
کل سے تو یہ صورتحال ہوگئی ہے کہ لیول پلیئنگ فیلڈ دور کی بات اب پلیئنگ فیلڈ ہی نہیں رہی۔ہمارے پاس نشان ہی نہیں رہا ہم اپنے امیدوار ہی نامزد نہیں کرسکتے۔
عوام ہمارے امیدوار کو شناخت کرکے ووٹ نہیں دے سکتے ہم تو ایک بالکل مختلف صورتحال میں چلے گئے ہیں وہ تو صورتحال کچھ اور تھی لیکن ہم تو اب بالکل پروسس سے باہر کردیئے گئے ہیں۔
آزاد امیدوار پارٹی کی نمائندگی نہیں کرتاوہ تو ایک آزاد شخص ہوتا ہے اس کے مختلف قانونی اعتراض ہوتے ہیں۔ساری چیزوں کو سامنے رکھتے ہوئے اگلے دو چار دنوں میں کوئی نہ کوئی پارٹی پالیسی بنائیں گے۔ہمارے امیدوار آزاد نہیں رہ سکتے، مختلف پارٹیوں میں شامل کرادیئے جائیں گے، پہلے ہی خبردار کردیا تھا، اختر اقبال ڈار کی گارنٹی نہیں ہے، سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے بعد نظر ثانی کا فیصلہ کریں گے۔
عوام سے انتخابات کا حق چھین لیا جاتا ہے تو الیکشن کی کوئی ساکھ نہیں رہے گی۔ انتخابی نشان اس لئے چھینا گیا تاکہ ہمیں مخصوص نشستیں نہ ملیں اور دوسری بات ہے کہ ان کو اپنے امیدوار کھڑے کرنے کا موقع نہ ملے اورعوام کو اپنے امیدوار شناخت کرکے ووٹ دینے کا موقع نہ ملے۔
ہم ان چیزوں کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی نہ کوئی پالیسی وضع کریں گے۔ حامد خان نے مزید کہا کہ الیکشن ایکٹ کے تحت انٹرا پارٹی الیکشن جماعت کا اندرونی معاملہ ہے۔
دوسری جماعتوں کے انٹرا پارٹی الیکشن قبول کرکے انہیں نشان دے دیا۔ کل سپریم کورٹ میں تمام بنیادی دستاویزات دکھائی ہیں۔ اگر باریک بینی سے انٹرا پارٹی الیکشن میں داخل ہوجائیں تو کوئی کمی بیشی تو ہوگی۔
انٹرا پارٹی الیکشن کے خلاف جانے والے پارٹی ممبر نہیں۔ ہم نے واضح کیا تھا کہ شکایت کنندہ پارٹی کے ارکان نہیں تھے۔ ہم نے کل سارے دستاویزات عدالت میں جمع کرائے تھے۔ انٹرا پارٹی انتخابات میں چھوٹی موٹی کوتاہیاں ضرور رہ جاتی ہیں۔ عدالت کو انٹرا پارٹی الیکشن انتخابات کے معاملے میں پڑنا ہی نہیں چاہئے تھا۔









