راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک) ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ باربار کہتے ہیںکہ فوج کوسیاست سے دوررکھا جائے ،پوری فوج ایک لڑی میں پروئی ہوئی ہے ، اگرکوئی سمجھتا ہے کہ فوج کے اندرتقسیم ہوسکتی ہے تواس کوفوج کے بارے پتا ہی نہیں۔جمعرات کو جاری کئے گئے ایک بیان میں میجرجنرل بابر افتخارنے کہاکہ پاکستان کے عوام اپنی مسلح افواج سے محبت کرتے ہیں، مسلح افواج کا کردارعوام کے لیے ہمیشہ اچھا رہے گا،مسلح افواج اورعوام کے کردارمیں کسی قسم کی دراڑنہیں آسکتی۔انہوں نے کہا کہ پچھلے چند دنوں میں تمام سیاسی جماعتوں کی لیڈرشپ نے مسلح افواج کی لیڈرشپ کے خلاف بیانات دیئے،بارباردرخواست کی ہے کہ مسلح افواج کوسیاسی گفتگوسے باہررکھیں۔انہوں نے کہاکہ ہمارے سکیورٹی چیلنجزاتنے بڑے ہیں کہ ہم ملک کی سیاست میں شامل نہیں ہوسکتے،اگرملک کی حفاظت کے اندرکوئی بھول،چونک ہوئی تومعافی کی گنجائش نہیں،اگرکوئی سمجھتا ہے کہ فوج کے اندرتقسیم ہوسکتی ہے تواس کوفوج کے بارے پتا ہی نہیں ،پوری فوج ایک لڑی میں پروئی ہوئی ہے اور وہ اپنے آرمی چیف کی طرف دیکھتی ہے،کسی کوکوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ کوئی فوج کے اندرتقسیم پیدا کرسکتا ہے، واضح کردوں جائزتنقید سے پرابلم نہیں ہے،خاص طورپرسوشل میڈیا پرتنقید نہیں پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ واضح کردوں کہ فوج کے اندرکسی بھی رینک میں کمانڈ کا عہدہ اہم ہوتا ہے،کسی بھی کورکی کمانڈ آرمی چیف کے بعد اہم عہدہ ہوتا ہے،ہماری سترفیصد فوج ڈپلائمنمنٹ ہے،مختلف جگہوں پرکاؤنٹرٹیررازم آپریشن کررہے ہیں،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم نے بہت کامیابیاں حاصل کی ہیں۔انہوں نے کہاکہ جلد الیکشن کا فیصلہ سیاست دانوں نے کرنا ہے،فوج کا کوئی کردارنہیں،سیاست دان اس قابل ہیں وہ بیٹھ کربہترطریقے سے فیصلہ کرسکتے ہیں،جب بھی فوج کوکسی سیاسی معاملے میں بلایا گیا تومعاملہ متنازع ہوجاتا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آرنے کہاکہ سیاست دان الیکشن کا فیصلہ بیٹھ کرہی کرسکتے ہیں،الیکشن کے دوران سیاست دان فوج کوبطور سکیورٹی بلائیں گے تواپنی خدمات پیش کریں گے۔میجرجنرل بابر افتخار نے کہاکہ فوج کبھی بھی سیاست دانوں کوملاقات کے لیے نہیں بلاتی،جب فوج کودرخواست کی جاتی ہیں توپھرآرمی چیف کوملنا پڑتا ہے،اس حوالے سے ساری کی ساری ذمہ داری سیاست دانوں پرہوتی ہے، ڈی جی آئی ایس آئی کے دوروں کواوپن نہیں کیا جاتا، ڈی جی آئی ایس آئی کے دورے بیک گراؤنڈ چلتے رہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ
تمام ممالک کے انٹیلی اجنس چیف کے ساتھ ملاقات اورانٹیلی جنس شیئرنگ ہوتی ہے،ایسے معاملات میں کوئی ابہام پیدا نہیں کرنا چاہیے،ہمارے آفیسر،جوان سوسائٹی سے کٹ ہوکرجب افواہیں اورادارے کے بارے غلط بات چیت ہوتوان تک بھی پہنچتی ہے۔انہوں نے کہاکہ اس طرح کے بیانات سے ادارے کا مورال متاثرہوتا ہے،آفیسراورجوان ایک ہیں،ہماری لیڈرشپ کا معیاربہت اعلیٰ ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہمارے جوانوں کواپنے آرمی چیف،کمانڈرپریقین ہوتا ہے،فوج کے ہررینک نے شہادتیں دی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آرنے کہاکہ لیڈرشپ پرتنقید کرنے سے ہرفوجی متاثرہوتا ہے،فوج کا سینٹرآف گریویٹی آرمی چیف ہوتا ہے، بلاوجہ آرمی چیف کے عہدے پرتنقید کے منفی اثرات ہوتے ہیں،باربار کہتے ہیں فوج کوسیاست سے دوررکھیں۔
اس سے پہلے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئےمیجرجنرل بابرافتخار نے کہاکہ ہمارے سکیورٹی چیلنج بہت زیادہ ہیں اور افواج پاکستان انتہائی اہم ذمہ داریاں انجام دی رہیں ،فوج کی قیادت کی پوری توجہ اپنی ذمہ داریوں پر ہے۔انہوں نے کہاکہ اس وقت جو بھی سیاسی صورت ہے اس میں ہمارا کوئی عمل دخل لہذا خواہ سیاستدان ہو یا میڈیافوج کو سیاسی گفتگو سے دور رکھیں۔انہوں نے کہاکہ آرمی چیف ایک بہت اہم عہدہ ہے اور اس پر تقرری کا طریقہ کار آئین اور قانون میں وضع کردیاگیا ہے ،جب آرمی چیف کی تقرری کا وقت آئے گا ،آئین وقانون کے مطابق ہو جائے گی ،آرمی چیف کی تقرری کو بلاوجہ موضوع بحث بنانا اس عہدے کو متنازع بنانے کی کوشش ہے جونہ تو ملک اور نہ ہی ادارے کے مفاد میں ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آرنے کہاکہ ہم بہت عرصے سے واضح کررہے ہیں کہ فوج کا سیاست سے کوئی لینادینا نہیں ہے،ہم نے واضح طور پراس عملدرآمد بھی کرکے دکھایا ہے، ضمنی الیکشن او ربلدیاتی الیکشن کو دکھا جائے، ہم نے واضح طور پر فوج کو اس سے دور رکھا ۔انہوں نے کہاکہ فوج کو کسی بھی سیاسی معاملے میں مداخلت کی دعوت دینا انتہائی غیر مناسب ہے۔انہوں نے کہاکہ فوج پاکستان کے عوام کی حفاظت پر کسی طور پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔
اگرکوئی سمجھتا ہے کہ فوج کے اندرتقسیم ہوسکتی ہے تواس کوفوج کے بارے میں پتا ہی نہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر








